سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 49 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 49

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 49 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کیا۔جب وہ جاسوس کو پکڑ کر آنحضور ﷺ کی خدمت میں لے گئے تو آپ اس وقت نماز تہجد میں دعاؤں میں مصروف تھے۔یہ تمام احوال اور معلومات حضور کی خدمت میں پیش کی گئیں۔اگلے روز حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے ذریعہ یہ فتح ظہور میں آئی۔(12) غزوہ تبوک میں بھی حضرت عمر نشریک ہوئے اور اس موقع پر غیر معمولی مالی قربانی کی توفیق پائی۔وفات رسول پر رد عمل اھ میں آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی۔صحابہ غم کے مارے دیوانے ہوئے پھرتے تھے۔حضرت عمر جیسے عاشق رسول نے اس موقع پر وارفتگی کے عالم میں مسجد نبوی میں یہ اعلان کر دیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضور ﷺ فوت ہو گئے ہیں میں اُس کا سر تن سے جدا کر دوں گا۔حضرت ابوبکر نے اس موقع پر نہایت جرات سے خطبہ ارشاد فرمایا اور آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( آل عمران : 145) تلاوت کر کے اعلان کیا کہ محمد تو ایک رسول ہی تھے اور آپ سے پہلے تمام رسول وفات پاچکے۔لہذا آپ کا وفات پانا کوئی اوپری بات نہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ قرآن تو میں پہلے بھی پڑھتا تھا مگر اس وقت مجھے ایسے لگا جیسے یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہو۔جب یہ احساس ہوا کہ واقعی آنحضور ﷺ وفات پاگئے ہیں تو حالت سکتہ میں لگا جیسے کسی نے میری ٹانگیں کاٹ دی ہیں اور میں زمین پر ڈھیر ہو گیا۔پھر تو مدینہ کی ہر گلی میں ہر شخص کی زبان پر یہ آیت تھی اور وہ روتے ہوئے گزشتہ تمام انبیاء کی وفات کی اس دلیل سے آنحضور ﷺ کی وفات کا اعلان کر رہے تھے۔(13) خلافت ابوبکر اور حضرت عمرہ کا کردار رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد امت کے لئے سب سے اہم مسئلہ خلافت راشدہ کا قیام تھا۔انصار اپنے سردار سعد بن عبادہ کے ڈیرے پر جمع ہوئے۔اس وقت بہت نازک صورتحال پیدا ہوگئی جب انصار میں سے بعض نے یہ سوال اُٹھایا کہ انصار کا الگ امیر اور مہاجرین کا الگ امیر مقرر ہو۔حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ بھی وہاں پہنچے۔پہلے حضرت عمرؓ بولنے لگے۔عمر فر ماتے تھے کہ میں اس موقع پر بولنے کے لئے تیاری کر کے گیا تھا۔مجھے خلافت کی ہرگز کوئی