سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 29 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 29

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 29 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اختیار کرو اس کے نتیجہ میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ جنت میں لیجانے کا ذریعہ ہے۔“ (71) یزید بن ابوسفیان کو شام کا امیر مقرر کر کے روانہ کیا تو از راہ نصیحت واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ ” مجھے بڑا اندیشہ یہ ہے کہ تم کہیں اپنے عزیز واقارب سے اپنی امارت کے نتیجہ میں ترجیحی سلوک نہ کرو۔یا درکھو میں نے نبی کریم سے سنا ہے کہ جس شخص کو مسلمانوں کا امیر بنایا جائے اور وہ کسی کو ڈر کر کچھ دیدے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔“ (72) عشق رسول الله حضرت ابو بکر رسول اللہ اللہ کے عاشق صادق تھے۔ابتداء میں رسول خدا کیلئے جاشاری کے زیر عنوان اور سفر ہجرت میں بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے۔اسی سفر کے متعلق بیان فرماتے تھے کہ راستے میں ایک چرواہے سے دودھ لے کر حضور علی کو پلایا جب حضور ﷺ نے دودھ پی لیا تو میرا دل راضی ہو گیا۔(73) یہ فقرہ آپ کی کمال محبت کو خوب ظاہر کرتا ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے خود آپ نے وہ دودھ پیا اور دل خوش ہو گیا۔مرتے دم تک آقا سے اپنے عشق کا اظہار کرتے رہے۔بار بار پوچھتے آج کیا دن ہے؟ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا سوموار کا دن۔فرمایا دیکھو اگر میں مر جاؤں تو کل کا انتظار نہ کرنا۔مجھے وہ دن اور راتیں بھی محبوب ہیں، جو رسول اللہ سے کسی لحاظ سے مناسبت یا قربت رکھتی ہیں۔(74) حضرت ابو بکر کو اہل بیت رسول سے بھی بڑی محبت تھی۔آنحضور ﷺ کی وفات سے چند روز بعد کا واقعہ ہے۔حضرت علیؓ آپ کے ساتھ کہیں جارہے تھے۔راستہ میں حضرت حسن کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔حضرت ابو بکر نے حضرت حسنؓ کو کندھوں پر اٹھالیا۔فرمانے لگے ” خدا کی قسم نبی کریم ﷺ پر اس کی شکل گئی ہے۔علی پر ہرگز ان کی شباہت نہیں۔حضرت علی اس لطیف مزاح اور اظہار محبت سے لطف اندوز ہو کر مسکرانے لگے۔(75) صلى الله شجاعت