سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 28 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 28

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 28 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھا تا۔اب جبکہ میں نے یہ منصب قبول کر لیا ہے تو جتنی میری طاقت ہے میں اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرونگا۔مجھے نبی کریم ﷺ کے معیار پر رکھ کر گرفت نہ کرنا کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے ایک خاص عصمت عطافرمائی تھی اور آپ معصوم تھے۔“ (66) حضرت ابو بکر کی خشیت اور مقام عجز کا اندازہ اس واقعہ سے بھی خوب ہوتا ہے ایک دفعہ نبی کریم نے فرمایا جو شخص تکبر سے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر چلتا ہے اس کو آگ کا عذاب ہوگا۔“ حضرت ابوبکر نے جو ڈھیلا تہبند باندھنے کے عادی تھے کمال انکسار سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! تہبند تو میرا بھی لٹک جاتا ہے۔نبی کریم نے انہیں یہ نوید سنائی کہ اے ابو بکر ! تو ان لوگوں میں سے نہیں۔(67) کیونکہ آپ تہبند تکبر سے نہیں لٹکاتے تھے اسطرح نبی کریم ﷺ نے ہر ایسے شخص کے لئے جو طبعا فروتنی اور عاجزی رکھتا ہے یہ فرما کر دین میں تشدد کرنے والوں کے خیال کی اصلاح فرما دی۔ایک دفعہ کسی نے آپ کو خلیفہ اللہ کہہ دیا یعنی خدا کے خلیفہ تو نہایت انکساری سے فرمایا دیکھو میں محمد کا خلیفہ ہوں۔مجھے خلیفہ رسول کہو میں اسی پر راضی ہوں۔“ (68) حضرت ابو بکر کے آخری سانس تھے آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ نے جذباتی کیفیت میں یہ شعر پڑھا وَابَيَضُ يُستَسقَى الغَمَامُ بِوَجِهه ثِمَالُ اليَتَــــامـى عِصمَةُ اللارَامِل کہ آپ وہ ہیں جن کے منہ کے صدقے بارش کی دعا کی جاتی ہے۔آپ یتیموں کے والی اور بیواؤں کے سہارا ہیں۔حضرت ابو بکر نے جان کنی کے عالم میں بھی اپنی یہ تعریف گوارا نہ کی اور نہایت انکسار سے فرمایا ” اے عائشہ! یہ مقام تو آنحضرت کا تھا۔“ (69) آپ کی انگوٹھی پر یہ الفاظ کندہ تھے ”عبدٌ ذَلِيلٌ لِرَبِّ جَلِيلٍ۔خدائے بزرگ و برتر کا ایک ادنی بندہ (70) حضرت ابوبکر مقام صدیقیت پر قائم تھے اور صدق و راستی سے اپنی طبعی مناسبت کے باعث اس کی پر زور تلقین فرماتے۔ایک دفعہ خطبہ دیتے ہوئے گلو گیر ہو گئے۔روتے ہوئے فرمایا ” سچائی