سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 30
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 30 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے عظیم سانحہ پر جب بڑے بڑے بہادروں کے پتے پانی ہور ہے تھے ، آپ نے کیسی استقامت دکھائی اور کس طرح صحابہ رسول کی ڈھارس بندھائی۔اس کا ذکر بھی ہو چکا ہے۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو میدان جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوا کرتا تھا کیونکہ سب سے زیادہ شدت سے حملہ وہیں ہوتا تھا۔یہ مقام شجاعت حضرت ابو بکر اور حضرت علیؓ جیسے اصحاب کو حاصل تھا۔حضرت علی نے ایک دفعہ صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ انہوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم تو کہنے لگے ” حضرت ابوبکر سب سے زیادہ بہادر تھے۔جنگ بدر میں ہم نے رسول اللہ کیلئے ایک جھونپڑی یا خیمہ تیار کیا تو سوال پیدا ہوا کہ اب رسول اللہ ﷺ کا پہرہ کون دے گا تا کہ مشرک آپ پر حملہ نہ کر سکیں ؟ خدا کی قسم ! کسی شخص نے ادھر کا رخ نہیں کیا مگر ابو بکر تلوار لیکر اس پر حملہ آور ہوئے۔یہ تھے تمام لوگوں سے بڑھ کر بہادر۔میں نے انہیں مکہ میں اس حال میں بھی دیکھا کہ رسول اللہ کو کفار قریش نے گھیر رکھا ہے اور کوئی استہزاء و تمسخر کرتا تھا تو کوئی آواز کرتا۔ہم میں سے کوئی آگے نہ بڑھا سوائے ابوبکر کے۔انہوں نے کسی کو ادھر دھکیلا تو کسی کو ادھر پرے ہٹایا۔“ (76) 66 حضرت ابو بکر نبی کریم ﷺ کے وزیر اور مشیر تھے۔نازک لمحات میں آنحضور ﷺ کے لئے تسلی کا موجب ہوتے تھے۔بدر کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ جھونپڑی میں نہایت درد اور الحاح کے ساتھ دعا کر رہے تھے۔حضرت ابوبکر سے اپنے آقا کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی حضور ﷺ کی خدمت میں کمال ادب سے عرض کیا یا رسول اللہ اب بس کیجئے۔اللہ تعالیٰ کی فتح کے وعدے ضرور پورے ہو کر رہیں گے۔“ (77) انفاق فی سبیل اللہ حضرت ابوبکر کے ایک ایک وصف اور فضلیت کو بیان کیا جائے تو کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا یہ حال تھا کہ قبول اسلام کے بعد چالیس ہزار درہم کے مالک تھے جو سب خدا کی راہ میں خرچ کر دئے۔غزوہ تبوک کے موقع پر تحریک کی گئی تو گھر کا سارا مال لا کر پیش کر دیا۔