سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 400 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 400

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 400 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور عظمت بیان کرتی ہے۔حضرت ابی کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم نے اپنی وفات کے سال ان کے ساتھ سارے قرآن کا دور کیا اور فرمایا کہ ”جبریل نے مجھے کہا ہے کہ میں سارا قرآن آپ کو سناؤں اور وہ آپ کو سلام کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابی حضرت عمرؓ سے کہا کرتے تھے کہ میں نے اس سے قرآن سیکھا جس نے جبریل سے تازہ بتازہ قرآن سیکھا۔(9) اطاعت رسول ج نبی کریم ﷺ کو حضرت ابی کے ساتھ جو محبت تھی اس کا اظہار اس واقعہ سے خوب ظاہر ہے۔آنحضور حضرت ابی کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں آواز دی۔حضرت ابی اُس وقت نماز میں مصروف تھے۔حضور ﷺ کی آواز سنتے ہی نماز مختصر کی اور سلام پھیر کر حضور کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔آنحضرت ﷺ نے تاخیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں نماز میں تھا۔حضور ﷺ کی آواز سنتے ہی نماز مختصر کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمُ (الانفال : 25) کہ اے مومنو اللہ اور اس کا رسول جب تمہیں بلائیں تو لبیک کہتے ہوئے اس کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرو۔اس لئے جب میں نے تمہیں آواز دی تو چاہیے تھا کہ نماز چھوڑ کر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جاتے۔حضرت ابی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ غلطی معاف ہو آئندہ انشاء اللہ ایسانہ ہو گا۔پھر حضور علی نے از راہ شفقت فرمایا اے آئی ! کیا میں تمہیں ایک ایسی سورۃ نہ سکھاؤں جو توریت، انجیل اور زبور میں بھی موجود نہیں ، نہ ہی خود فرقان مجید میں ایسی کوئی سورۃ موجود ہے اور وہ سورۃ فاتحہ ہے۔یہ وہ سات آیات ہیں جو اپنے مضامین اور معانی کے لحاظ سے قرآن عظیم کہلانے کی مستحق ہے۔) عالم بالعمل حضرت ابی بن کعب ایک عالم باعمل انسان تھے۔نہایت التزام کے ساتھ پنجگانہ نمازیں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔ایک روز نماز فجر کے بعد کا ذکر کرتے ہیں آنحضرت