سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 401
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 401 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نماز سے غیر حاضر لوگوں کے بارے میں پوچھا کہ کیا فلاں فلاں شخص نماز پر آئے ہیں؟ عرض کیا گیا وہ حاضر نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا دو نمازیں فجر اور عشاء منافقوں پر بہت بھاری ہیں اور اگر ان کو علم ہو کہ ان نمازوں کا کتنازیادہ ثواب ہے تو وہ ضروران نمازوں میں حاضر ہوں۔خواہ انہیں اپنے گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔(11) ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت ابی سے سوال کیا کہ ہمیں دوران سفر ایک چانک ملا ہے۔اس کا کیا کریں؟ حضرت ابی بن کعب نے کیا خوب جواب دیا کہ یہ تو ایک کوڑا ہے۔مجھے ایک دفعہ سودینار ملے تھے اور میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ ایک گم شدہ چیز ہے ملی ہے۔آنحضور نے فرمایا کہ ایک سال تک اعلان کرتے رہو کہ جس کسی کے ہوں وہ لے لے۔ایک سال تک اعلان کے باوجود جب کوئی مالک نہ آیا تو میں وہ دینار لے کر حضور کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا۔حضور علیہ نے فرمایا کہ ایک سال اور اعلان کرو۔چنانچہ مزید ایک سال اعلان کر کے پھر تیسری مرتبہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺے دوسرے سال بھی اعلان کے بعد اس کا کوئی مالک نہیں آیا۔فرمایا ایک سال اور اعلان کرو۔تیسرے سال اعلان کے بعد بھی جب کوئی نہیں آیا تو انہوں نے آنحضور ﷺ سے چوتھی مرتبہ پوچھا۔آپ نے فرمایا اب بیشک یہ دینار اپنے استعمال میں لے آؤ۔یوں حضرت ابی نے سائل کو اپنے عملی نمونہ سے بتایا کہ اس واقعہ سے سبق حاصل کرو۔(12) حضرت ابی بن کعب جو خود بھی پنجگانہ نمازوں کا خاص التزام رکھتے تھے یہ واقعہ بھی بیان کرتے تھے کہ ایک صحابی مسجد نبوی سے دور مدینہ کے کنارے پر رہتے تھے لیکن جذ بہ واخلاص ایسا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے کے شوق میں پانچوں نمازیں مسجد نبوی میں آکر ادا کرتے تھے۔شدید گرمی ہو یا شدید سردی وہ طویل فاصلہ پیدل طے کر کے نماز کیلئے حاضر ہوتے۔مجھے ان کی حالت پر ترس آتا۔ایک دفعہ میں نے ان سے کہا کہ آپ کوئی سواری گدھا وغیرہ ہی خرید لیتے جس سے پیدل چلنے کی مشکل آسان ہو جاتی۔اس صحابی نے بھی کیا خوب جواب دیا کہ میری تو یہ تمنا ہے کہ مسجد آتے جاتے میرا ہر قدم اجر وثواب کا موجب ہو جائے۔آنحضرت ﷺ کو جب اس شخص کی