سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 369 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 369

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 369 حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نہیں کہ اس میں چا کو بھی حصہ دیا گیا تھا وہ روایت بھی حضرت جابر بن عبد اللہ کی ہے جو بیان کرتے ہیں کہ وہ جائیداد جو اسواق کے نام سے مشہور تھی۔آنحضرت ﷺ نے بنی حارث بن خزرج کے محلہ میں خود تشریف لے جا کر حضرت سعد بن ربیع کی بیٹیوں میں تقسیم کی۔اس موقع پر وہاں آنحضور کیلئے گوشت اور روٹی کا کھانا پیش کیا گیا جو آپ نے اپنے اصحاب کیساتھ بیٹھ کر کھایا اور ظہر کی نماز ادا کی۔پھر تقسیم جائیداد کے کام میں مصروف ہو گئے اور عصر کی نماز بھی وہیں پڑھائی۔یہ پہلی جائیدا دتھی جو اسلامی احکام وراثت کے مطابق عورتوں میں تقسیم ہوئی۔اور خود آنحضور نے اس کی تقسیم فرمائی۔(5) مقام و مرتبه حضرت سعد بن ربیع کی غیر معمولی قربانیوں فدائیت اور ایثار کے وجہ سے صحابہ کے نزدیک ان کا جو مقام تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے خوب ہوتا ہے حضرت سعد بن ربیع کی صاحبزادی ام سید تھیں اور ان کی چچا زاد بہن حضرت حبیبہ حضرت ابو بکر کی اہلیہ تھیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت ابوبکر کے گھر میں ایک دفعہ ملاقات کیلئے حاضر ہوئی۔حضرت ابو بکڑ نے اپنا کپڑا جواو پر لیا ہوا تھا وہ انکے بیٹھنے کیلئے نیچے بچھا دیا اور حضرت ام سید اس پر بیٹھیں۔اتنے میں حضرت عمر تشریف لائے اور انہوں نے پوچھا کہ یہ کس کی بیٹی ہیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اے عمر ! یہ اس کی بیٹی ہے جو مجھ سے بھی بہتر تھا اور تم سے بھی۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اے خدا کے رسول کے خلیفہ وہ کون شخص تھا جو آپ سے بھی اور مجھ سے بھی بہتر تھا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ وہ سعد بن ربیع تھے جو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں شہید ہوئے اور اس کے نتیجے میں جنت میں اپنا ٹھکانا بنالیا اور میں اور تم دونوں پیچھے رہ گئے۔اور وہ ان شہادتوں کے اجر حضور ﷺ کے زمانے میں ہی پا کر جنتیوں کے وارث گئے۔دوسری روایت میں ہے کہ ” بہترین وہ تھا جو عقبہ میں شریک ہوا۔بدر میں شرکت کی سعادت پائی اور احد میں شہید ہوا یہ اس کی بیٹی ہے۔(6) حضرت سعد اور حضرت خارجہ بن زید دونوں چچا زاد بھائی تھے۔احد کے میدان میں شہادت کے بعد شہداء کو ایک ایک قبر میں دو دو تین تین کر کے دفن کیا گیا اور حضرت خارجہ بن زید اور حضرت سعد بن ربی اکٹھے دفن ہوئے۔