سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 368
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 368 حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ان سے بڑھ کر اللہ آپ کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی کرے۔اور میری قوم کو بھی میرا سلام پہنچا کر کہنا ، جب تک خدا کا رسول ﷺ تمھارے اندر موجود ہے اس امانت کی حفاظت کرنا تم پر فرض ہے۔یاد رکھو جب تک ایک شخص بھی تمھارے اندر زندہ موجود ہے اگر تم نے اس امانت کی حفاظت میں کوئی کوتاہی کی تو قیامت کے دن تمھارا کوئی عذر خدا تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ہوگا“ یہ پیغام دے کر حضرت سعدا اپنے مولیٰ کو پیارے ہو گئے۔حضرت ابی بیان کرتے ہیں کہ میں سعد کے آخری لمحات میں ان کے پاس موجود رہا اور وفات کے بعد سعد بن ربیع کا یہ مقدس پیغام وفا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچایا۔آنحضرت اپنے عاشق اور اپنے فدائی صحابی کا پیغام سن کر فرمانے لگے اللہ رحمتیں کرے سعد بن ربیع پر کہ جب تک وہ زندہ رہا اس نے اللہ اور رسول کی خیر خواہی کی اور مرتے دم بھی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کو چھوڑا نہیں۔“ (3) یتیم بچیوں کی وراثت حضرت سعد بن ربیع کی شہادت کے ساتھ اسلامی احکام وراثت بھی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ربیع کی وفات کے وقت ان کی دو بیٹیاں موجود تھیں۔حضرت سعد بن ربیع کے بھائی نے عرب رواج کے مطابق ان کی جائیداد سنبھال لی۔حضرت سعد کی بیوہ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ سعد تو اللہ کو پیارے ہو گئے ان کی اولا د موجود ہے اور سعد کا ترکہ سوائے اس جائیداد کے کوئی نہیں۔آئندہ بچیوں کے شادی بیاہ کے مسائل بھی ہونگے۔لوگ بچیوں کا مال وغیرہ بھی دیکھا کرتے ہیں۔عربوں کے دستور کے مطابق بچیوں کے چانے جائیداد سنبھال لی ہے۔اس وقت تک وراثت کے کوئی احکام نہیں اترے تھے۔آنحضرت خاموش رہے اور پھر جب آیت میراث اتری تو نبی کریم نے ایک روایت کے مطابق یہ ہدایت فرمائی کہ دو تہائی حصہ سعد کی دو بیٹیوں کو دیا جائے اور آٹھواں حصہ ان کی ماں کو اور جو بچ جائے وہ ان کے چچا کو دینے کیلئے ارشاد فرمایا۔(4) دوسری روایت امام احمد کی ہے جس میں میراث کی تقسیم کا ذکر تو موجود ہے لیکن یہ تفصیل موجود