سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 366 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 366

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 366 حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ایثار اور قربانی کا انتہائی نمونہ حضرت سعد بن ربیع نے پیش کر دکھایا جو اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب غنا اور شان بے نیازی عطا فرمائی تھی۔چنانچہ آپ نے حضرت سعد سے کہا کہ اے میرے بھائی اللہ تعالیٰ آپ کے اہل میں اور مال میں برکت ڈالے مجھے آپ صرف بازار کا رستہ بتا دیجئے۔میں تاجر آدمی ہوں۔اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاؤں گا۔چنانچہ وہ بازار گئے اور کچھ کھن اور پنیر کی خرید و فروخت سے پہلے دن ہی کچھ بچا کر گھر لے آئے۔پھر تو خدا تعالیٰ نے ان کی تجارت میں ایسی برکت ڈالی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تھوڑے ہی عرصہ مدینے میں ہی شادی بھی کر لی ایک روز نبی کریم نے ان کے جسم اور لباس سے کچھ شادی کے آثار دیکھ کر فرمایا اے عبدالرحمن شادی کی ہے تو ولیمہ بھی کرو خواہ ایک بکری ذبح کر کے ہی ہو۔(2) سعد بن ربیع کا جذبہ خلوص واطاعت غزوہ احد سے پہلے کا واقعہ ہے حضرت عباس نے کفار مکہ کے تین ہزار مسلح لشکر جرار کی خبر بذریعہ خط رسول اللہ کو بھجوائی۔یہ خط حضور ﷺ کوقباء میں ملا اور ابی بن کعب نے آپ کو خط پڑھ کر سنایا حضور ﷺ نے اسے یہ خبر مخفی رکھنے کی ہدایت کی۔پھر آپ مشورہ کیلئے حضرت سعد بن ربیع کے گھر تشریف لے گئے اور پوچھا کہ گھر میں کوئی اور تو نہیں حضرت سعد نے کہا نہیں آپ بے تکلف اپنی بات کریں۔پھر حضرت سعد نے بات سن کر تسلی دلائی کہ مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ اس کا بہتر نتیجہ پیدا فرمائے گا۔حضور اللہ نے سعد کو بھی یہ خبر مخفی رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ادھر منافقین نے مدینہ میں مکہ کے حملہ کی افواہ پھیلا دی کہ اب مسلمان نہیں بچ سکتے۔رسول اللہ ﷺ کے جانے کے بعد حضرت سعد کی بیوی نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی راز دارانہ گفتگو کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے جھڑک دیا کہ تمہیں اس سے کیا غرض؟ وہ کہنے لگیں مجھے پتہ چل چکا ہے اور میں نے حضور کی بات سن لی تھی۔حضرت سعد نے فورا مدینہ جا کر رسول اللہ ﷺ کو اطلاع کی کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے تو عرض کیا تھا کہ آپ کی بات کوئی سن نہیں رہا مگر مجھے علم نہ تھا کہ میری بیوی نے ہماری بات سن لی ہے مجھے ڈر ہے کہ بات پھیلے تو حضور علی یہ نہ سمجھیں کہ مجھ سے ارادہ ایسا ہوا۔رسول کریم ﷺ نے