سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 367
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیوی سے درگز رکرنے کا ارشاد فرمایا۔داستان عشق و وفا 367 حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ربیع کے حالات حدیثوں میں بہت ہی کم آئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غزوہ احد میں شہید ہو گئے اور آنحضرت علی کے ساتھ دو اڑھائی سال کا مختصر عرصہ خدمت انہیں نصیب ہوا لیکن جو ذکر ملتا ہے وہ آپ کی عظیم الشان قربانیوں اور کمال فدائیت کا ہی تذکرہ ہے۔احد میں حضرت سعد کی شہادت کا واقعہ اپنی ذات میں رسول اللہ سے عشق و وفا کی داستان ہے جس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنے اس فدائی صحابی سے کتنی محبت تھی۔غزوہ احد میں ستر کے قریب مسلمان شہید ہو چکے تھے جب جنگ کے بادل چھٹے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ہے جو جا کر سعد بن ربیع انصاری کی خبر لے آئے؟ میں نے اسے دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا پایا تھا۔حضرت ابی بن کعب اور محمد بن مسلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم حاضر ہیں۔چنانچہ یہ دونوں صحابی گئے اور میدان احد میں شہداء کی بکھری نعشوں کے درمیان ان کو تلاش کرنے لگے مگر سعد بن ربیع کہیں نظر نہ آئے۔انہیں خیال آیا کہ حضرت سعد بن ربیع عاشق رسول تھے۔انہیں رسول اللہ علے کا واسطہ دیگر تلاش کرنا چاہیے۔تب انہوں نے میدان احد میں یہ آواز بلند کی کہ اے سعد بن ربیع ! خدا کا رسول تمہیں یاد کرتا ہے۔اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جگہ کسی زخمی میں کچھ حرکت پیدا ہوئی۔وہاں پہنچے تو دیکھا کہ سعد بن ربیع تھے۔حضرت ابی نے کہا کہ آنحضور ﷺ نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے حضور آپ کو سلام کہتے اور آپ کا حال پوچھتے تھے۔حضرت سعد بن ربیع نے بھی جواب میں کیا ہی پیا را پیغام دیا کہا حضور کی خدمت میں جا کر میرا بھی سلام کہنا اور عرض کرنا کہ مجھے تیروں اور نیزوں کے بارہ شدید زخم پہنچے ہیں، جن سے بظاہر بچنا اب ممکن نظر نہیں آتا۔حضرت سعد بن ربیع کو احساس تھا کہ یہ انکے آخری لمحات ہیں۔جان کنی کے اس عالم میں جب وہ آخری الوداعی پیغام دینے لگے اس وقت انہیں اپنی بیوہ یا یتیم بچے یاد نہیں آئے اگر کوئی چیز یاد آئی تو وہ تھا خدا کا رسول اور اس کی محبت۔چنانچہ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور کہنا کہ یا رسول اللہ جتنے خدا کے فرستادہ نبی پہلے گزرے ہیں۔ان کی آنکھیں اپنی قوم سے جتنی ٹھنڈی ہوئیں رض