سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 308
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 308 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کر دو جس نے تمہیں تکلیف میں مبتلا کر رکھا ہے اور روئے زمین پر اپنے اونٹوں کو بھگا کر مت تھکاؤ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ معد قبیلے کے اس بہترین خاندان میں رہتا ہوں جو نسلاً بعد نسل ایک معزز خاندان چلا آ رہا ہے۔(2) یہ پیغام جب زیڈ کے باپ تک پہنچا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہاوہ بے اختیار محبت والفت کے جذبات سے مغلوب ہو کر یہ کہہ اٹھے رب کعبہ کی قسم ! میرا بیٹا مل گیا پھر حارثہ نے اپنے بیٹے زید کی گردن غلامی سے آزاد کرانے کے لئے فدیہ کا انتظام کیا اور اپنے بھائی کعب کو ساتھ لے کر مکہ کے لئے رخت سفر باندھا۔پوچھتے بچھاتے یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں خانہ کعبہ میں حاضر ہوئے اور یہ مودبانہ درخواست پیش کی اے عبداللہ عبدالمطلب اور ہاشم کے صاحبزادے ! اے اپنی قوم کے سردار ! آپ لوگ جو حرم کے باسی اور بیت اللہ کے پڑوس میں رہنے والے ہیں۔آپ قیدیوں کو آزاد کرتے اور انہیں کھانا کھلاتے ہیں۔ہم اپنے بیٹے کے بارہ میں جو آپ کے پاس ہے حاضر ہوئے ہیں۔ہماری درخواست ہے آپ ہم پر احسان کرتے ہوئے اس کا فدیہ قبول کر لیں اور اگر اس سے زیادہ فدیہ کا تقاضہ کریں تو ہم وہ بھی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔رسول اللہ نے تعجب سے پوچھا وہ کون؟ انہوں نے کہازید بن حارثہ۔اس پر آنحضرت نے فرمایا کہ آپ لوگ فدیہ کے علاوہ بھی کسی بات پر راضی ہو سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کس بات پر ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اسے آزاد چھوڑ کر اختیار دے دیا جائے اگر وہ آپ لوگوں کے ساتھ جانے پر راضی ہو تو آپ اسے بغیر فدیہ کے ساتھ لے جاسکتے ہیں لیکن اگر وہ میرے پاس رہنے کا فیصلہ کرے تو خدا کی قسم جو شخص مجھے اختیار کرنا چاہتا ہے میں اس کے فیصلہ کے خلاف ہرگز نہ کروں گا۔یہ نہایت منصفانہ فیصلہ سن کر زید کے والد اور چا کہنے لگے کہ آپ نے تو ہماری توقع سے بھی بڑھ کر انصاف بلکہ احسان کا سلوک ہم سے روا رکھا ہے ہمیں یہ فیصلہ بسر و چشم قبول ہے۔آنحضرت نے زیڈ کو بلا کر پوچھا۔تم ان لوگوں کو جانتے ہو یہ کون ہیں؟ زیڈ نے عرض کیا جی ہاں یہ میرے باپ اور چاہیں تب آپ نے فرمایا اور مجھے بھی تم خوب جانتے ہونا ! تم ایک زمانہ میری صحبت رہے ہو اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے چاہو تو ا پنے باپ اور چچا کے ساتھ واپس اپنے وطن چلے جاؤ اور مرضی ہے تو میرے پاس رہو۔حضرت زیڈ