سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 307 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 307

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 307 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سَاَعْمَلُ نَصَّ العِيرِ فِي الْأَرْضِ جَاهِدًا وَلَا اســـــــام التـطــواف اوتَــــــام الابل سَاوُصِی به قَيْسُاً وَعَمْرُوا كِلَيْهِمَا وَأُوصِي يَزِيدًا ثُمَّ مِنْ بَعْدِهِم جَبَلْ (ترجمہ) ہائے میرے زید نے کیا کیا؟ میں اس کی جدائی پر خون کے آنسو روتا ہوں اور نہیں جانتا کہ کیا وہ کہیں زندہ بھی ہے کہ اس کے لوٹنے کی امید رکھی جائے یا اس پر موت وارد ہو چکی ہے۔اے میرے بیٹے زید کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرے جیتے جی کبھی لوٹ کر واپس بھی آئے گا۔اگر میری یہ خواہش پوری ہو جائے تو مجھے دنیا میں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ہر نئے دن کا طلوع ہونے والا سورج مجھے زید کی یاد دلاتا ہے اور جب کسی بھی معصوم بچے کو میں اپنے پاس دیکھتا ہوں تو زید کا چہرہ سامنے آجاتا ہے۔میرا یہ عزم ہے میں زید کی تلاش میں روئے زمین پر اونٹوں کو دوڑا دوڑا کر تھکا ماروں گا اور خواہ اونٹ تھک جائیں مگر میں اس گردش دنیا سے نہیں تھکوں گا جب تک کہ اپنا مقصد نہ پالوں اور میں اپنے بعد زیڈ کے بھائیوں قیس اور عمرو اور یزید اور جبل کو بھی یہی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اس مقصد کو کبھی نہ بھولیں۔“ یہی تمنائیں اور ارادے لے کر قبیلہ کلب کے کچھ لوگ حج پر گئے۔حسن اتفاق سے بالآخر انہوں نے زید کو تلاش کر ہی لیا اور اسے دیکھتے ہی پہچان لیا ، زیڈ بھی انہیں پہچان گئے اور اپنے گھر والوں کی حالت زار کا علم پا کر جواباً اپنے اہل خانہ کو اشعار کی زبان میں ہی جو محبت بھرا پیغام بھجوایا اس سے زیڈ کی ذہانت و فطانت کا بھی خوب اندازہ ہوتا ہے جس میں انہوں نے ایک طرف اپنے گھر والوں کو تسلی دلانے کی کوشش کی ہے اور دوسری طرف یہ بتایا ہے کہ وہ خود کہاں اور کس حال میں ہیں۔زیڈ کے اشعار کا مفہوم یہ ہے مجھ غریب الوطن کو اپنی قوم سے دور ہونے کی حالت میں ان سے ملنے کا بے حد شوق ہے۔اگر چہ میں بیت اللہ اور مشعر الحرام کے پاس قیام پذیر ہوں۔پس اے میری قوم اب اپنے اس غم کو ختم