سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 309 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 309

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 309 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے (جو رسول اللہ اللہ کے احسانوں کے نتیجہ میں آپ کے عاشق صادق بن چکے تھے ) جو خوبصورت جواب دیا وہ دنیائے عشق و محبت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔زید نے کہا اے میرے آقا! میں ہر گز آپ کے مقابلے میں کسی اور کے ساتھ جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اب آپ ہی میرے مائی باپ ہیں۔زید کا یہ جواب سن کر اس کے والد اور چا حیران وششد رہ گئے۔انہیں رسول اللہ کے اس حسن واحسان کا اندازہ نہیں تھا جو آپ اپنے غلام زیڈ کے ساتھ فرماتے تھے۔وہ کہنے لگے تیر برا ہواے زید کیا تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے؟ کیا تو ان کو اپنے باپ اور اپنے چچا اور اپنے سب گھر والوں پر فوقیت دیتا ہے؟ زید نے کہا ہاں ! ” میں نے اس عظیم الشان انسان سے ایسا حسن سلوک دیکھا ہے کہ میرے لئے ممکن ہی نہیں کہ میں کبھی آپ کے مقابلے پر کسی اور کو ترجیح دے سکوں‘۔(3) ایک اور روایت میں یہ ذکر ہے کہ زید کے بھائی جبلہ نے بھی حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی زیڈ کو میرے ساتھ روانہ کر دیں اس پر زیڈ نے اپنا یہ فیصلہ سنایا کہ وہ و آنحضرت ﷺ کے مقابلہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتے۔بعد میں جبلہ کہا کرتے تھے کہ میرے بھائی زیڈ کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔(4) واقعی زیڈ نے جن کے ساتھ وفا کی وہ اس سے کہیں احسان اور وفا کرنے والے تھے۔آنحضرت نے زید کی اس وفا سے بہت خوش ہوئے اور زیڈ کو اپنے ساتھ خانہ کعبہ میں لے جا کر یہ اعلان کیا۔اے تمام لوگو جو حاضر ہو گواہ رہنا زید آج سے میرا بیٹا ہے میں اس کا وارث اور یہ میرا وارث ہے نبی کریم ﷺ کے احسان کا یہ سلوک دیکھ کر زیڈ کے والد اور چچا مطمئن ہوکر واپس لوٹ گئے تب سے زید بن حارثہ زید بن محمد کہلائے۔(5) قبول اسلام اور مواخات اب زید خاندان رسالت کے فرد بن چکے تھے۔بعض دوسری روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت کے دعوی نبوت سے پہلے کا ہے چنانچہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب زید گو یہ اختیار دیا کہ چاہو تو میرے ساتھ رہو اور چاہو تو تم اپنے باپ کے ساتھ چلے جاؤ تو زید نے