سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 233 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 233

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 233 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپسی کو ابھی ایک سال بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ رومی سرحدوں پر شورش ہوئی۔غسانی ریاست کے سردار شرجیل بن عمرو نے مسلمان سفیر کو قتل کروادیا جو شاہ بصری کی طرف رسول اللہ اللہ کا مکتوب گرامی لے کر جا رہے تھے یہ مسلمانوں کے ساتھ کھلا اعلان جنگ تھا۔نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے اسلامی لشکر کو تیاری کا حکم دیا۔تین ہزار سپاہ کا لشکر تیار ہوا۔اب اس کے امیر کے تقرر کا سوال تھا۔اس لشکر میں بزرگ صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری، مشہور جنگی کمانڈر حضرت خالد بن ولید کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کے عم زاد اور مشیر خاص حضرت جعفر بن ابی طالب بھی شامل تھے جو شاہ حبشہ کے دربار میں بھی اسلامی وفد کی شاندار قیادت کر چکے تھے اور خاندانی وجاہت بھی رکھتے تھے۔مگر رسول کریم ﷺ جہاں ان کی اعلیٰ روحانی قدروں کو مزید صیقل فرمانا چاہتے تھے وہاں خواص و عوام کو شرف انسانی کا عملی سبق دینے اور کئی حکمتوں کے پیش نظر آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید گو اس لشکر کا سالا راول مقرر کیا۔حضرت جعفر شو نائب مقرر کرتے ہوئے فرمایا ” زید بن حارثہ کی شہادت کی صورت میں حضرت جعفر قائد لشکر ہوں گے اور ان کے بعد عبد اللہ بن رواحہ علم امارت سنبھالیں گے۔“ حضرت جعفر نے کمال اطاعت کا نمونہ دکھاتے ہوئے اس فیصلہ پر سر تسلیم خم تو کرنا ہی تھا۔صرف اتنا عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے اپنے اوپر زیڈ کے امیر بنائے جانے کا ہر گز خیال نہ تھا۔رسول اللہ نے فرمایا ”خدا کے نام کے ساتھ روانہ ہو جاؤ تمہیں کیا معلوم کہ بہتر کیا ہے؟ ( 6 ) لشکر روانہ ہوا۔موتہ کے مقام پر ایک لاکھ رومی فوج سے سخت مقابلہ ہوا، جس میں تینوں اسلامی سالار یکے بعد دیگر شہید ہوئے۔بالآخر حضرت خالد بن ولید نے قیادت سنبھالی۔عین اس روز اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو اس لشکر کے سارے احوال کی اطلاع فرما دی۔(7) داد شجاعت اور شہادت رسول کریم ﷺ نے اہل مدینہ کو اکٹھا کرنے کیلئے منادی کروائی۔پھر آپ منبر پر چڑھے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔آپ نے اس کشف کا ذکر کرتے ہوئے جس میں آپ کو غزوہ موتہ کا نظارہ کرایا گیا