سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 234
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 234 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھا، ارشاد فرمایا ایک بہت تکلیف دہ خبر آئی ہے۔کیا میں تمہیں اس غزوہ پر جانے والے تمہارے لشکر کے بارہ میں خبر دوں؟ ان مجاہدین نے میدان جنگ میں دشمن سے خوب مقابلہ کیا۔سب سے پہلے امیرلشکر حضرت زید شہید ہو گئے۔آپ سب ان کی بخشش کی دعا کرو۔‘ اس پر صحابہ نے ان کی بخشش کی دعا کی۔آپ نے فرمایا۔" پھر علم لشکر حضرت جعفر بن ابی طالب نے سنبھالا اور دشمن پر ٹوٹ پڑے اور بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔میں ان کی عظیم الشان شہادت کا گواہ ہوں۔پس ان کی بھی بخشش کی دعا کرو۔تمام اصحاب رسول ﷺ نے حضرت جعفر کی بخشش کی بھی دعا کی۔رسول کریم ﷺ نے ان امرا لشکر کے نیک انجام کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے جعفر زید اور عبد اللہ کے بارہ میں یہ نظارہ بھی دکھایا گیا کہ وہ ایک موتی کے خیمہ میں ہیں۔ان میں سے ہر ایک الگ پلنگ پر ہے۔(8) غزوہ موتہ میں اسلامی لشکر اور امرائے لشکر کی شہادتوں سے جو حالات ظاہر ہوئے اس سے ہمارے آقا ومولا کے فیصلہ کی حکمت بھی کھل جاتی ہے۔اس جنگ میں پہلی مرتبہ آپ نے بالترتیب تین امراء کا تقرر فرمایا۔بعد میں غزوہ موتہ سے واپس لوٹنے والے مجاہدین کی بیان کردہ تفاصیل سے بھی رسول اللہ ﷺ کی ان پیشگی بیان فرمودہ خبروں کی تائید و تصدیق ہوئی۔چنانچہ قبیلہ بنی مرہ بن عوف کے ایک شخص عباد کے والد عبداللہ غزوہ موتہ میں شامل تھے۔وہ حضرت جعفر کے لمحات شہادت کا آنکھوں دیکھا حال یوں بیان کرتے ہیں ” خدا کی قسم حضرت جعفر کی بہادری کا وہ نظارہ اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے جب وہ گہری سرخ رنگ کی گھوڑی سے چھلانگ لگا کر نیچے اترے اور تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا کام تمام کر کے دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور پھر واپس نہیں آئے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔جعفر" پہلے شخص تھے جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی ٹانگیں اس عزم سے کاٹ دیں کہ اب خود بھی لڑ کر جان قربان کرنی ہے۔اس وقت ان کی زبان پر یہ اشعار تھے اے جنت پاکیزہ ! تجھے اور تیرے اتنے قریب آجانے کو خوش آمدید۔رومیوں کا عذاب قریب آچکا ہے۔جو کافر ہیں اور ہم سے دور کا رشتہ رکھتے ہیں۔اب میرا یہی کام ہے کہ ان سے تلوار زنی کر کے مقابلہ کروں۔رسول کریم علی اللہ نے حضرت جعفر کی بیوی حضرت اسماء سے فرمایا کہ "جعفر" ابھی