سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 5
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 5 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انکار کر دیا اور کہا کہ ”ابن الدغنہ تم اپنی امان واپس لے لو۔میرے لئے خدا کی پناہ اور حفاظت کافی ہے۔(12) ہجرت مدینہ اور مدینہ کے حالات: الله حضرت ابوبکر ہجرت حبشہ نہ کر سکے تو کچھ عرصہ بعد آنحضرت ﷺ سے مدینہ ہجرت کی اجازت طلب کی۔حضور نے فرمایا : " ابوبکر ! انتظار کرو، شاید اللہ تمہارا کوئی اور ساتھی پیدا کر دے۔“ چند دنوں کے بعد کفار مکہ نے دارالندوہ میں آنحضرت ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ادھر آنحضور ﷺ کو بذریعہ وحی الہی ہجرت کی اجازت مل گئی۔آپ فوراً حضرت ابو بکر کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابوبکر پہلے ہی تیار تھے۔فوراً عرض کیا" الصحبة يا رسول اللہ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اپنے اس غلام کو ہمراہی کا شرف بخشیں۔حضرت اسماء کہتی ہیں کہ ہمارے ابا حضرت ابو بکر نے راہ خدا میں خرچ کرنے کے بعد ہجرت کے لئے جو کچھ بچا کر رکھا ہوا تھا وہ بطور زادراہ ساتھ لے گئے۔یہ رقم پانچ ہزار درہم کے قریب تھی۔ہجرت مدینہ کے مبارک سفر میں حضرت ابو بکر صدیق نے جس وفاداری اور جانثاری کا نمونہ دکھایا وہ عشق و وفا کی الگ داستان ہے۔انہوں نے اپنی دو اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی آنحضرت کی خدمت میں بلا معاوضہ پیش کر دی۔رسول اللہ نے قیمت ادا کرنے کی شرط پر قبول فرمائی۔پھر غار ثور میں جان خطرہ میں ڈال کر رسول خدا کی معیت کی توفیق پائی جس کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا: ثاني اثنينِ اذْهُمَا فِي الغَار۔۔۔الخ (سورۃ التوبہ: 40) یعنی وہ دو میں سے دوسرا جب کہ وہ غار میں تھے۔جب وہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔تب اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور اس کی مدد سے ایسے لشکروں سے کی جو تم نہیں دیکھتے تھے۔حضرت ابو بکر خود بیان کرتے تھے کہ جب تعاقب کرنے والے قریش کے سردار غار کے منہ پر پہنچ گئے تو میں نے عرض کیا کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے ہو کر نظر ڈالے تو ہمیں دیکھ سکتا ہے۔نبی کریم ہے نے فرمایا اے ابو بکر تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جس کے ساتھ تیسرا خدا ہے۔‘(13) سفر ہجرت میں جب قریش مکہ رسول اللہ اللہ کے قتل کے در پے اور تعاقب میں تھے۔حضرت