سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 4
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 4 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی درخواست کی اور آپ کو خانہ کعبہ لے گئے اور عبادت کے بعد خطبہ دیا۔کفار نے انہیں پاؤں اور جوتوں سے اتنا مارا کہ چہرہ کا حلیہ بگڑ گیا۔پہچانے نہیں جاتے تھے۔یہاں تک کہ آپ کو کپڑے میں اٹھا کر گھر پہنچایا گیا۔اندیشہ تھا کہ جانبر نہ ہوسکیں گے۔بے ہوشی میں کسی بات کا کوئی جواب نہ دیتے تھے۔شام کو جب ہوش آئی تو پہلا سوال یہ تھا ” میرے آقا کا کیا حال ہے؟ رسول اللہ ﷺ کو تو کوئی تکلیف نہیں پہنچی؟‘ (9) بیعت کے بعد حضرت ابوبکر کے پائے ثبات میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی وہ ہمیشہ دین کی اشاعت اور آنحضرت محلہ کی حفاظت کے لئے آپ کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کمر بستہ رہے اور آنحضور ﷺ کی خاطر کبھی اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی۔رض ایک دفعہ ایک کافر نے ایک کپڑا آنحضرت ﷺ کے گلے میں ڈال کر بل دینے شروع کئے یہاں تک کہ آپ کا دم گھٹنے لگا۔حضرت ابوبکر تشریف لائے۔آنحضور کو ان ظالموں سے چھڑایا اور کہا " کیا تم ایک شخص کو اس لئے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ؟“ ان ظالموں نے حضرت ابو بکر کو پکڑ لیا اور مار مار کر بے حال کر دیا۔حضرت ابو بکر کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔پاک ہے اللہ جو جلال اور عزت والا ہے۔(10) نوفل بن خویلد حضرت ابو بکر اور حضرت طلحہ کو ایک رسی سے باندھ دیا کرتا تھا تا کہ وہ نماز وغیرہ دینی کاموں سے رک جائیں۔مگر یہ مصائب ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکے۔(11) جب مکہ میں تکالیف انتہا تک پہنچ گئیں تو حضرت ابوبکر کو دربار نبوی ﷺ سے ہجرت حبشہ کی اجازت مرحمت فرمائی گئی۔ابھی مکہ سے باہر نکلے ہی تھے کہ ایک کافر سر دارا بن الدغنہ سے ملاقات ہوئی۔اس کے پوچھنے پر سارا قصہ سنایا۔اس نے کہا کہ آپ تو دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ایسا مرنجاں مرنج انسان ہم مکہ سے نہیں جانے دیں گے۔پھر وہ حضرت ابوبکر صدیق کو امان دے کر واپس لایا۔حضرت ابوبکر صبح کے وقت قرآن شریف کی تلاوت بڑے در دو سوز اور خوش الحانی سے کرتے تو بچے بوڑھے سب جمع ہو جاتے۔اہل مکہ نے اس پر تاثیر کلام کا اثر دیکھا تو ابن الدغنہ کے ذریعہ آپ کو بلند آواز میں قرآن پڑھنے سے روکنا چاہا۔انہوں نے صاف