سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 6
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 6 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ابوبکر آپ کی حفاظت کی خاطر سراقہ کے تعاقب سے پریشان ہوکر رونے لگے فرمایا کیوں روتے ہو؟ عرض کیا ” خدا کی قسم اپنی جان کے خوف سے نہیں روتا آپ کی خاطر روتا ہوں کہ تعا قب والے پہنچ گئے ہیں۔تب رسول کریم ﷺ نے دعا کی اور سراقہ کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں جنس گئے۔جب کئی بار ایسا ہوا تو خود سراقہ نے اپنے لئے دعا کی درخواست کی اور حضور کی دعا سے نجات پا کر اور انعام واکرام کے عہد و پیمان لے کر واپس لوٹا۔اس طور پر آپ میثرب پہنچے۔(14) ہجرت مدینہ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد جب رسول نے انصار و مہاجرین میں مؤاخات قائم فرمائی۔صدیق اکبر کے بھائی حضرت خارجہ بن زید انصاری ٹھہرے اور حضرت ابوبکر نے مدینہ کے مضافات میں سخ مقام پر ان کے ساتھ قیام فرمایا۔خاندانی مراسم بڑھے تو حضرت خارجہ کی لڑکی حبیبہ سے حضرت ابو بکر نے شادی کی جن کے بطن سے اُم کلثوم ہوئیں۔آپ کا دوسرا کنبہ جس میں حضرت عائشہ اور حضرت ام رومان شامل تھیں، حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔حضرت ابو بکر با قاعدہ مدینہ ان کی خبر گیری کو جایا کرتے۔مدینہ میں حضرت ابوبکر آنحضرت ﷺ کے دست راست اور مشیر خاص بن کر تمام مہمات دینیہ اور دینی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔غزوات میں شرکت حضرت ابو بکر نے تمام غزوات میں بدر سے فتح مکہ تک رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہ کر عظیم الشان خدمات انجام دینے کی توفیق پائی۔ہجرت مدینہ کے بعد سفر و حضر اور امن و جنگ کی ہر حالت میں حضرت ابوبکر رسول اللہ اللہ کے معاون و مددگار اور سلطان نصیر رہے۔رسول اللہ علیہ کو حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد نکاح کی ضرورت پیش آئی۔حضرت ابوبکر نے عمروں میں تفاوت کے باوجود نہ صرف اپنی لخت جگر حضرت عائشہ گا رشته بخوشی پیش کر دیا تھا بلکہ حضور کی ضرورت کے پیش نظر جلد رخصتی کی خاطر آپ کیلئے حق مہر کا انتظام بھی خود کیا۔(15) غزوہ بدر میں رسول کریم ﷺ کیلئے بغرض حفاظت ایک جھونپڑی تیار کی گئی۔حضرت علی بیان کرتے ہیں ” ہم سوچ ہی رہے تھے کہ اس نازک جگہ پر مشرکین کے حملہ سے حفاظت کیلئے کون ڈیوٹی