سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 167
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 167 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ خود آ کر صلح کر لی۔حضرت سعد نے بابل کو ایک ہی حملہ میں فتح کر لیا۔پایہ تخت کے قریب بہرہ شیر مقام پر کسری کا شکاری شیر مقابلہ پر چھوڑا گیا جسے حضرت سعد کے بھائی ہاشم نے تلوار سے کاٹ کر رکھ دیا۔یہ قلعہ دوماہ کے محاصرہ کے بعد فتح ہوا۔اب بہرہ شیر اور پایہ تخت مدائن کے درمیان صرف دریائے دجلہ حائل تھا۔ایرانیوں نے سب پل تو ڑ کر بیکار کر دئے تب حضرت سعد ا پنی فوج کو مخاطب ہوئے کہ ”اے برادران اسلام دشمن نے ہر طرف سے مجبور ہو کر دریا کے دامن میں پناہ لی ہے آؤ اسے بھی عبور کر جائیں تو فتح ہماری ہے۔یہ کہا اور اپنا گھوڑ ادریائے دجلہ میں ڈال دیا۔دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحر ظلمات میں دوڑا دئے گھوڑے ہم نے فوج نے اپنے سپہ سالار کی بہادری دیکھی تو سب نے اپنے گھوڑے دریا میں ڈال دئے اور دوسرے کنارے پر جا پہنچے۔ایرانی یہ غیر متوقع حملہ کو دیکھ کر بھاگے اور معمولی مقابلے کے بعد مسلمانوں نے مدائن فتح کر لیا۔مدائن کے ویران محلات دیکھ کر حضرت سعد کی زبان پر یہ آیات جاری ہو گئیں۔(13) كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنْتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيْمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فَكِهِينَ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْهَا قَوْمًا أَخَرِيْنَ ـ (الدخان: 26، 27 ) فتح مدائن عراق عرب پر تسلط قائم ہونے کی آخری کڑی تھی بڑے بڑے سرداروں سے صلح کے بعد تمام ملک میں امن و امان کی منادی کروادی گئی۔اس کے بعد حضرت سعد نے جلولاء اور تکریت پر اسلامی جھنڈا لہرایا۔اس سے آگے بڑھنے سے حضرت عمرؓ نے آپ کو روک دیا اور حکم دیا کہ پہلے مفتوح علاقوں کا نظم ونسق درست کیا جائے۔حضرت سعد نے اس کی تعمیل کی اور نہایت عمدگی سے انتظام سلطنت چلایا۔ایرانیوں سے اس قدر محبت والفت اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا کہ ان کے دلوں میں گھر کر لیا۔بڑے بڑے امراء اس وجہ سے مسلمان ہوئے۔دیلم کی چار ہزار فوج جو شاہی رسالہ کے نام سے مشہور تھی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی۔