سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 166 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 166

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 166 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آپ نے اسی وقت بڑے اضطراب سے تکرار کے ساتھ یہ دعا کی اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً! اے اللہ سعد کو شفا عطا فرمایہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ اس کی قبولیت کا علم پا کر نبی کریم نے فرمایا " اے سعد خدا تجھے لمبی عمر عطا کرے گا اور تجھ سے بڑے بڑے کام لے گا اور تجھ پر موت نہیں آئے گی جب تک کہ کچھ قومیں تجھ سے نقصان اور کچھ فائدہ نہ اٹھا لیں پھر آپ نے یہ دعا کی کہ اے اللہ میرے صحابہ کی ہجرت ان کیلئے جاری کر دے۔“ (12) رسول اللہ کی دعا اور پیشگوئی کی برکت سے حضرت سعد نے لمبی عمر پائی اور عظیم الشان اسلامی فتوحات کے ہیر و ثابت ہوئے۔عراق و ایران کی فتوحات میں اہم کردارادا کیا۔حضرت ابوبکر کے زمانہ میں آپ ہوازن کے عامل رہے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایرانیوں جنگیں لڑیں اور ان کے اکثر علاقے فتح کئے۔قادسیہ کے میدان میں ایرانیوں سے تاریخی جنگ میں سپہ سالار رستم اور ہاتھیوں کی زبردست فوج کا مقابلہ کیا۔حضرت سعد اس وقت عرق النساء کی تکلیف سے بیمار تھے مگر آپ میدان جنگ کے قریب ایک قصر کے بالا خانے پر رونق افروز ہوکر جنگ میں اپنے قائمقام خالد بن عرطفہ کی رہنمائی فرماتے رہے وہ کاغذ پر ضروری ہدایات لکھ کر بھجواتے ایک دفعہ ایرانی ہاتھیوں کا ریلہ حملہ آور ہوا تو قریب تھا کہ بجیلہ قبیلہ کے سواروں کے پاؤں اکھڑ جائیں حضرت سعد نے قبیلہ اسد کو پیغام بھجوایا کہ ان کی مدد کرو۔جب قبیلہ اسد پر حملہ ہوا تو قبیلہ تمیم کو جو نیزہ بازی میں کمال رکھتے تھے کہلا بھیجا کہ تمہاری موجودگی میں ہاتھی آگے نہ بڑھنے پائیں وہ اپنے لئے میر لشکر کا یہ پیغام سن کر اس جوش سے لڑے کہ جنگ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔جنگ قادسیہ کے دوسرے روز شام کی امدادی فوجوں کے پہنچنے سے مسلمانوں کا جوش و جذ بہ اور بڑھ گیا۔جنگ کے تیسرے روز حضرت سعد نے اپنے چند بہادروں کو حکم دیا کہ اگر تم دشمن کے ہاتھیوں کو ختم کر دو تو یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے۔چنانچہ انہوں نے چند بڑے بڑے ہاتھیوں کو مار ڈالا جس کے نتیجے میں باقی ہاتھی بھاگ نکلے۔یوں بالآخر میدان حضرت سعد کے ہاتھ رہا۔مشہور زمانہ پہلوان رستم میدان سے بھاگتا ہوا مارا گیا۔جنگ قادسیہ کے بعد حضرت سعد نے تمام عراق عرب کو زیرنگین کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اس جنگ کے بعد ایرانیوں پر آپ کا اتنار عب طاری تھا کہ جس علاقے سے گزرے بڑے بڑے سرداروں نے