سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 92
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جسارت کی کہ اے عثمان آپ تو بہ کریں کہ آپ نے امت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔بلکہ آپ کے ساتھ سب لوگ بھی تو بہ کریں۔آپ نے بلا پس و پیش اسی وقت قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اُٹھایا اور کہا ”اے اللہ میں سب سے پہلے تیری درگاہ میں تو بہ کرتا ہوں۔سب لوگوں نے بھی آپ کی پیروی میں ایسے ہی کیا۔“ (45) حضرت عثمان میں اپنی حیرت انگیز مالی قربانی کے بعد کبھی ریا یا فخر کا کوئی شائبہ کبھی پیدا نہ ہوا ایک دفعہ کسی تنگ دست نے آپ کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا آپ امیر طبقہ کے لوگ بہت ثواب کما گئے ہو۔تو حضرت عثمان نے پوچھا کیا تمہیں ہم پر رشک آتا ہے۔اس نے کہا ہاں۔فرمانے لگے ” خدا کی قسم ! تمہاری محنت کی کمائی سے ایک درہم خرچ کرنا دس ہزار درہم سے بڑھ کر ہے اور تمہارا تھوڑا بھی زیادہ سے بہتر ہے۔‘ (46) سادگی خلافت کے زمانہ میں بھی آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا۔مسجد نبوی میں قیلولہ کیلئے چٹائی پر لیٹ جاتے۔چٹائی کے نشان آپ کے پہلو میں ہوتے۔جسے دیکھ کر لوگ تعجب سے کہہ اٹھتے امیر المومنین کی یہ حالت ہے؟ (47) کھانے کا یہ حال تھا کہ مہمانوں کو گھر سے اعلیٰ کھانا کھلاتے مگر خود زیتون کے تیل اور سرکہ پر مشتمل کھانا تناول کرتے۔(48) عدل گستری اپنے خادموں کے ساتھ معاملہ میں انکسار کے ساتھ عدل کی بھی عجب شان نظر آتی ہے۔ایک دفعہ اپنے غلام سے فرمایا کہ میں نے تمہاری گوشمالی کی تھی یعنی کسی بات پر تنبیہ کیلئے کان مروڑے تھے اب مجھ سے بدلہ لے لو۔اس نے آپ کا کان پکڑ لیا۔فرمانے لگے اور سختی سے کان مروڑ و کہ اسی دنیا میں جو بدلہ چکا دیا جائے وہ کیا خوب ہے۔“ (49) منصفانہ رائے دینے میں آپ کسی کا لحاظ نہ کرتے تھے۔نافع بن عبد الحارث کہتے ہیں کہ