سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 93 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 93

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 93 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حضرت عمرؓ مکہ آئے اور جمعہ کے دن دارالندوہ میں ٹھہر گئے تا کہ قریب سے بیت اللہ آجاسکیں۔ایک دفعہ اپنی چادر دیوار پر لٹکائی تو ایک کبوتر اس پر آکر بیٹھ گیا۔انہوں نے اس اندیشہ سے کہ چادر کو گندانہ کردے اسے اڑا دیا۔وہ دوسری دیوار پر جا بیٹھا تو ایک سانپ نے اسے ڈس کر مار ڈالا۔جمعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے مجھے اور حضرت عثمان سے کہا کہ تم دونوں میرے اس معاملہ میں فیصلہ کرو۔میں نے حضرت عثمان سے کہا کہ میرے خیال میں تو حضرت عمر کو بطور فدیہ ایک بکرے کی قربانی کرنی چاہیے۔حضرت عثمان نے فرمایا میرا بھی یہی خیال ہے۔(50) سخاوت و فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ حضرت عثمان غنی دولتمند ہونے کے ساتھ بہت سخی اور فیاض بھی تھے۔کوئی خیال کر سکتا ہے کہ شاید غیر معمولی دولت کی وجہ سے اُن کو غنی کا خطاب ملا۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت عثمان کو محض مالی فراخی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان مالی قربانیوں کی وجہ سے غنی“ کہا گیا ہے جو وہ دل کے غنا کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی راہ میں پانی کی طرح مال بہاتے تھے جسے دیکھ کر آج بھی انسان محو حیرت ہو جاتا ہے۔حضرت عثمان ہی تھے جنہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ میں ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کیا کروں گا۔اور پھر زندگی کے آخری سانس تک اس عہد کو نبھاتے رہے اور ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے چلے گئے۔(51) - یہ کوئی معمولی قربانی نہیں ایک غلام کی قیمت ہزاروں درہم ہوا کرتی تھی۔اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر جمعہ کو یہ مالی قربانی از خود اپنے ذمے لے لینا بہت بڑی بات ہے اور حضرت عثمان کی ہفتہ وار مالی قربانی کی غیر معمولی منفر د مثال ہے جو آپ نے قائم کر دکھائی۔اپنے گھر کے محاصرہ کے دنوں میں آپ نے ہمیں غلام آزاد کئے۔(52) مسلمان جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ان کا ایک بہت بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی کا تھا۔مدینے میں بئر رومہ ایک ہی بڑا کنواں تھا جو ایک یہودی کی ملکیت تھا اور وہ اس کا پانی بیچا کرتا تھا۔مسلمان حالت مفلسی میں ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے اُن کیلئے پانی خرید نا تو درکنار کھانے کو غذا تک میسر نہ تھی۔یہ بہت کٹھن مرحلہ تھا۔آنحضرت نے مسلمانوں کی تکالیف دیکھ کر تحریک عام فرمائی کہ کوئی