سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 91 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 91

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 91 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے تو فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(41) آپ کے حیا کا یہ عالم تھا کہ تنہائی اور بند کمرے میں بھی کپڑے نہ اُتارتے تھے۔حتی کہ غسل بھی لباس پہن کر کرتے تھے غسل کے وقت بیوی کی لونڈی کپڑے لے کر آتی تو فرماتے تم مجھے نہ دیکھنا کہ یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے۔“ (42) خوف خدا اس قدر تھا کہ قبرستان کو دیکھ کر بے چین ہو جاتے اور فرمایا کرتے کہ رسول اللہ ہی سے میں نے سنا ہے کہ قبر آخرت کی منازل میں سب سے پہلی منزل ہے اگر یہ معاملہ آسانی سے طے ہو گیا تو پھر باقی منزلیں بھی آسان ہیں۔اور اگر یہاں دشواری پیش آئی تو دیگر مر حلے بھی مشکل ہوں گے۔“ سنت رسول ماہ کی پیروی صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ نے حضرت عثمان کو اہل مکہ کی طرف بھجوایا تو آپ کے چچا زاد ابان بن سعید نے انہیں اپنی پناہ میں لیا۔اپنی سواری پر سوار کروایا اور خود آپ کے پیچھے بیٹھ کر آپ کو مکہ لے کر آیا۔آپ کے سادہ لباس کو دیکھ کر وہ کہنے لگا اے میرے چچا کے بیٹے ! یہ کیا بات ہے میں آپ کو نہایت عاجزانہ لباس میں دیکھتا ہوں۔آپ بھی اپنی قوم کی طرح بڑا تہ بند پہنیں جسے لڑکا کر چلتے ہیں۔حضرت عثمان نے فرمایا ہمارے آقا و مولا ایسا ہی لباس پہنتے ہیں۔پھر اس نے کہا اے میرے چچا کے بیٹے آپ خود تو طواف کر لیں۔حضرت عثمان نے فرمایا بھائی ! ہم کوئی چیز شروع نہیں کرتے اور کسی کام میں پہل نہیں کرتے جب تک کہ ہمارے ساتھی حضرت محمد وہ نہ کر لیں۔(43) تواضع و سادگی سادگی کا یہ عالم تھا کہ گھر میں لونڈیوں اور غلاموں کے باوجود اپنے کام خود کرنا پسند کرتے۔رات کو اٹھ کر وضوء کے پانی کا خود انتظام کرتے کسی نے کہا کہ خادم کی مدد لے لیا کریں فرمایا رات ان کے آرام کے لئے ہے۔(44) طبیعت کا ایک گہرا وصف یہ تھا کہ آپ میں نرمی اور رقت بہت تھی۔تواضع کی یہ انتہا تھی کہ ایک دفعہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔عمرو بن العاص نے یہ کہنے کی