سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 79
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 79 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دوسری روایات میں آپ کے قبول اسلام کے واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے کہ مکہ میں پہلی دفعہ حضرت عثمان نے اپنی خالہ سعد کی بنت کریز سے سنا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔وہ اللہ کے پیغام کی طرف بلاتے ہیں اور ان کا دین غالب آئے گا۔حضرت عثمان کہتے ہیں یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی۔میں انہی باتوں پر غور کر رہا تھا کہ حضرت ابو بکر نے ایک دوستانہ مجلس میں پوچھ لیا کن سوچوں میں گم ہو؟ میں نے خالہ کی بات کہہ سنائی اس پر انہیں تبلیغ کا موقع مل گیا۔کہنے لگے اے عثمان ! تم حق وباطل میں فرق کر سکتے ہو اور ان اندھے بہرے گونگے بتوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ فائدہ دے سکتے ہیں نہ نقصان۔میں نے کہا بات تو درست ہے۔وہ کہنے لگے پھر تمہاری خالہ نے سچ ہی تو کہا ہے۔اور اگر شوق ہے تو رسول اللہ کے پاس آکر ان سے کچھ کلام سنو۔حضرت ابوبکر نے یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچادی۔جلد ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی صورت پیدا کر دی۔حضرت عثمان بیان کرتے ہیں ” میں اپنی خالہ ارویٰ بنت عبدالمطلب کی عیادت کرنے گیا وہاں حضور ﷺ سے ملاقات ہوئی۔آپ نے مجھ پر نگاہ ڈالی۔اس روز آپ کی ایک عجیب شان تھی۔مجھے فرمایا عثمان تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا " مجھے تعجب ہے کہ ہمارے درمیان آپ کا ایک مقام ومرتبہ ہے اس کے باوجود آپ پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔آپ نے بڑے جلال سے فرمایا۔”لا الہ إِلَّا اللَّهُ۔خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔خدا جانتا ہے یہ سن کر میں کانپ گیا۔پھر آپ نے سورۃ ذاریات کی وہ آیات تلاوت کیں۔جن میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت یوں بیان ہے اور آسمان میں تمہارا رازق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دئے جاتے ہو اور زمین کے رب کی قسم یہ اس طرح سچ ہے جس طرح تم آپس میں باتیں کرتے ہو۔“ (الذاریات 24,23 ) پھر وہاں سے نکلے تو میں بھی آپ 66 کے پیچھے گیا۔رسول خدا ﷺ کی نظر جب مجھ پر پڑی تو فرمایا ” عثمان خدا کی جنت قبول کرو۔میں تیری اور تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔“ حضرت عثمان کہتے ہیں کہ میں نے اُسی وقت کلمہ شہادت پڑھ کر دست مبارک میں ہاتھ دیا اور بیعت کر لی۔(4)