سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 80
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مظالم پر صبر 80 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبول اسلام کے بعد حضرت عثمان بھی کفار قریش کے مظالم کا تختہ مشق ستم بنتے رہے۔چنانچہ قبول اسلام پر ان کے چا حکم بن ابی العاص بن امیہ نے آپ کو پکڑ کر رسوں سے باندھ دیا۔وہ کہتا تم اپنے آباء اجداد کا دین چھوڑ کر نیا دین اختیار کرتے ہو؟ خدا کی قسم میں تمہیں کھولوں گا نہیں جب تک یہ نیا دین چھوڑ نہ دو۔حضرت عثمان کمال استقامت سے جواب دیتے ”خدا کی قسم میں یہ نہیں چھوڑوں گا۔کبھی نہیں چھوڑونگا۔جب چچانے اسلام پر ان کی مضبوطی دیکھی تو خود ہی تھک کر انہیں چھوڑ دیا۔(5) شادی اور ہجرت حبشہ قبول اسلام کے بعد سب سے بڑی سعادت جو حضرت عثمان کے حصہ میں آئی وہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ سے آپ کی شادی ہے۔جس کے کچھ عرصہ بعد اپنے اصحاب کی تکالیف دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ملک حبشہ میں ایک عادل بادشاہ ہے۔جب تک مکہ میں حالات بہتر نہیں ہوتے آپ لوگ وہاں ہجرت کر جاؤ۔خدا کی خاطر وطن چھوڑنے کی یہ قربانی کرنے والے اولین مجاہدین میں حضرت عثمان بھی تھے۔(6) رسول کریم ﷺ نے آپ کو ہجرت میں سبقت کے لحاظ سے اول المہاجرین قرار دیا۔چند سال حبشہ میں قیام کے بعد قریش کے اسلام لانے کی خبر سن کر آپ بعض دیگر مہاجرین کے ساتھ مکہ واپس آئے۔ہر چند کہ قریش کے مسلمان ہونے کی خبر غلط نکلی۔مگر آپ مہاجرین حبشہ کے ساتھ دوبارہ حبشہ واپس نہیں گئے۔جب آپ نے مخالفین کی ایذاء رسانیوں اور بدکلامی سے پریشان ہو کر ہجرت کا ارادہ کیا تو رسول کریم ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ اپنی اہلیہ صاحبزادی رقیہ کو بھی ہمراہ لے جائیں۔غریب الوطنی میں تم میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی کے لئے صبر و قرار کا موجب ہوگا۔چونکہ یہ کسی مسلمان کا مکہ چھوڑنے کا پہلا واقعہ تھا۔رسول کریم ﷺ کو طبعا فکر دامنگیر تھی کہ اس کے تمام مراحل راز داری سے