سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 526
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 526 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے۔آپ کھجور کی شاخوں سے چٹائیاں بن کر روزی کماتے تھے۔پانچ ہزار درہم کی رقم وظیفہ یا گزارہ کے طور پر حاصل ہوتی تھی وہ سب غرباء اور مساکین میں خرچ کر دیتے تھے۔(19) بوقت وفات آپ کا ترکہ چند درہم کے سوا کچھ نہ تھا۔آپ کی بیماری میں حضرت سعد معیادت کیلئے آئے تو یہ رونے لگے۔انہوں نے کہا کہ آپ صحابی رسول نہیں روتے کیوں ہیں؟ کہنے لگے میں دنیا کے شوق یا آخرت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے نہیں روتا۔مگر رسول کریم ﷺ سے جو عہد بیعت باندھا تھا۔ڈرتا ہوں کہ اسمیں کوئی زیادتی نہ کر لی ہو۔آپ نے فرمایا تھا ایک شخص کیلئے ایک سوار کی زادراہ کے برابر کافی ہے۔(20) آخری زمانہ میں حضرت سلمان عراق آکر آباد ہو گئے جب کہ آپ کے دینی بھائی ابو درداء شام میں تھے۔دونوں میں خط و کتابت رہی۔حضرت ابو درداء نے انہیں لکھا تھا کہ ہمارے جدا ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے مال بھی عطا کیا اور اولاد بھی دی۔میں ارض مقدسہ میں مقیم ہوں۔حضرت سلمان نے جوا با تحریر کیا کہ جہاں تک آپ نے مال کا ذکر کیا ہے تو یا درکھیں کہ خیر و برکت کثرت مال سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ بھلائی اس میں ہے کہ تمہارا احلم زیادہ ہواور تمہارا علم تمہیں فائدہ دے۔جہاں تک آپ نے ارض مقدس میں آباد ہونے کا لکھا ہے تو محض کوئی زمین کسی کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔پس اپنی رائے اور سمجھ کے مطابق اعمال کرتے جاؤ اور اپنے آپ کو ہمیشہ مردوں میں سے سمجھو۔ایک دفعہ مدائن کے گورنر حضرت حذیفہ نے آپ سے کہا کہ ہم آپ کیلئے کوئی گھر کیوں نہ تعمیر کردیں۔کہنے لگے کیوں؟ تم مجھے بادشاہ بنانا چاہتے ہو کہ مدائن میں آپ کے محل جیسا میرا حل ہو۔انہوں نے کہا نہیں بالکل سادہ سا اور چھوٹا سا گھر۔کہنے لگے ہاں یہ میرے دل کی بات کہی ہے۔(21) حضرت عمرؓ نے حضرت حذیفہ بن یمان کے بعد حضرت سلمان فارسی کو مدائن کا گورنر مقرر فرمایا۔(22) شادی و اولاد حضرت سلمان نے کندہ قبیلہ میں شادی کی تھی۔بیوی کا نام بقیر ہ تھا۔ایک روایت کے مطابق