سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 517
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 517 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ درخت سے اپنے مالک کے اوپر گر پڑوں گا۔پھر میں کھجور کے درخت سے اترا اور ان کے چچا زاد سے بار بار پوچھنے لگا کہ تم کیا بات کر رہے تھے؟ اس پر میرا مالک سخت ناراض ہو۔اور مجھے زوردار طمانچہ رسید کر کے کہا تمہیں اس سے کیا غرض ؟ میں نے کہا کچھ نہیں میں تو صرف ان کی بات کی وضاحت چاہتا تھا۔ایک اور روایت میں مدینہ پہنچنے کی مزید تفصیل حضرت سلمان کی زبانی یوں ہے۔دریں اثناء مدینہ کی طرف ایک تجارتی قافلہ آیا ، انہوں نے بتایا کہ نسل ابراہیم سے ایک دعویدار پیدا ہوا ہے جس کی قوم اس سے برسر پر کار ہے۔وہ مدینہ آیا ہے ، ہمیں اندیشہ تھا کہ کہیں ہماری تجارت اس سے متاثر نہ ہو جائے مگر وہ اب مدینہ کا مالک ہوچکا ہے۔میں نے کہا اس کی قوم کے لوگ اسے کیا کہتے ہیں۔انہوں نے کہا وہ اسے ساحر اور مجنون کہتے ہیں۔میں نے دل میں کہا کہ یہی تو اس کی نشانی ہے۔پھر میں نے قافلہ کے سردار سے بات کی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ مدینہ لے جاؤ۔اس نے کہا کیا معاوضہ دو گے؟ میں نے کہا میرے پاس دینے کو تو کچھ نہیں بس مجھے اپنا غلام بنالو۔دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے قافلہ والوں سے کہا کہ مجھے اپنے ساتھ سوار کر والو۔مجھے بس روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا کرنا اور اپنے شہر جا کر ا ہو تو غلام رکھ لینا اور چاہو تو بیچ دینا۔جب ان کے شہر پہنچے تو اس شخص نے مجھے کھجور کے باغ میں پانی دینے پر لگا دیا۔جیسے اونٹ پانی کھینچتا ہے اس طرح پانی کھینچ کھینچ کر میری پشت اور سینہ میں نشان پڑے۔یہاں کوئی میری زبان نہیں سمجھتا تھا ایک دن ایک امیرانی بڑھیا پانی لینے آئی جو میری زبان جانتی تھی۔اس سے میری بات ہوئی، میں نے اس سے کہا کہ مجھے اس دعویدار شخص کے بارہ میں کچھ بتاؤ وہ کہاں ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ صبح کی نماز کے بعد فلاں جگہ سے گزریں گے تو تم ان سے مل سکو گے چنانچہ اگلے روز کھجور میں لے کر حاضر خدمت ہوئے۔دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنے مالکوں کے گھرانے میں نبی کریم میلے کا ذکر سنا۔اس کے گھر میں باعزت گزارہ ہو رہا تھا۔میں نے گھر کی مالکہ سے کہا کہ مجھے ایک دن کی رخصت دو۔وہ مان گئی تو میں نے جا کر اس دن لکڑیاں کاٹیں اور ان کو بیچ کر کھانا تیار کیا اور وہ کھانا لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ