سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 516
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 516 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ زمین پر کسی شخص کا علم نہیں جس کے بارے میں تمہیں نصیحت کروں کہ وہاں چلے جاؤ۔البتہ ایک نبی کی بعثت کا زمانہ آچکا ہے۔جس کی بشارت حضرت عیسی نے دی تھی۔وہ دین ابراہیمی کے ساتھ مبعوث ہوگا۔سرزمین عرب سے نکلے گا۔دو پتھر یلے میدانوں کے درمیان ایک کھجوروں والی سرزمین کی طرف ہجرت کرے گا۔اس کی کچھ علامتیں بڑی واضح ہونگی۔وہ تحفہ لے لے گا مگر صدقہ نہیں کھائے گا۔اس کے دونوں کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔اگر تم اس ملک میں جاسکو تو ضرور جاؤ۔پھر وہ فوت ہو گئے اور میں ایک زمانہ تک عمور یہ میں ہی ٹھہرا رہا۔یہود مدینہ کی غلامی پھر کرنا خدا کا کیا ہوا کہ قبیلہ کلب کے کچھ تاجروں کا ہمارے شہر سے گزر ہوا۔میں نے ان سے کہا کہ میں اپنی گائیں اور بکریاں تمہیں دیتا ہوں۔تم مجھے عرب کی سرزمین میں پہنچا دو۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔چنانچہ میں نے وہ جانوران کو دئے۔انہوں نے مجھے اپنے ساتھ سوار کر والیا اور مجھے وادی القریٰ میں لے آئے۔یہاں آکر انہوں نے مجھ سے زیادتی کرتے ہوئے غلام بنا کر ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔میں اس کے پاس رہا۔وہاں کھجور کے باغات دیکھ کر میں امید کرتا تھا کہ شاید یہی وہ شہر ہو جس کے بارے میں اس بزرگ نے مجھے بتایا تھا۔مگر میرا دل مطمئن نہ تھا۔میرے وہاں قیام کے دوران اس کا چچازاد بھائی مدینہ سے مکہ آیا۔جو بنو قریظہ قبیلہ سے تھا۔وہ مجھے خرید کر مدینہ لے آیا۔خدا کی قسم ! مدینہ کو دیکھتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی شہر ہے جس کی نشانیاں عموریہ کے بزرگ نے بتائی تھیں۔میں مدینہ ٹھہر گیا۔اللہ تعالیٰ نے مکہ میں اپنا رسول مبعوث فرمایا تھا۔میں غلامی کے کام کاج میں ایسا مصروف ہوا کہ اس کی خبر تک نہ ہوئی۔پھر رسول اللہ ا ہے نے مدینہ ہجرت فرمائی۔خدا کی قسم! میں کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا اپنے مالک کا کام کر رہا تھا۔میرا مالک نیچے بیٹھا ہوا تھا۔اس کا چازاد بھائی اسکے پاس آیا اور کہا اللہ بنی قبیلہ کوقتل کرے۔خدا کی قسم ! وہ اب قباء میں ایک ایسے شخص کے ساتھ اکٹھے ہور ہے ہیں جو مکہ سے ان کے پاس آیا ہے اور کہتے ہیں کہ وہ نبی ہے۔“ سلمان کہتے ہیں یہ سنتے ہی میں چونک اٹھا۔میری توجہ اپنے کام سے ہٹ گئی اور مجھے لگا کہ میں