سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 480
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 480 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ میں نے طبعی حجاب کی وجہ سے بیوی کو اس سے روکا تھا۔لیکن وہ باز نہیں آئی جب حضور ﷺے باغ میں چہل قدمی فرمانے کے بعد واپس جانے لگے اور دیکھا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے تو آپ نے حضرت ابو بکڑ سے فرمایا کہ ابوبکر نماز کا وقت ہو گیا ہے چلو واپس چلیں۔دریں اثنا میری بیوی نے جھونپڑی سے تھوڑا سا سر باہر نکال کر عرض کیا یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعا تو کر جائیں حضور ﷺ دعا تو پہلے سے ہی کر رہے تھے اس وقت خاص طور پر آپ نے ان کے لئے دعا کی اے اللہ! ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں بھیج۔اس پر بھی اور اس کے شوہر پر بھی۔اور پھر مجھ سے تاکید فرمایا کہ تم نے یہ پھل کٹوا کر یہودیوں کو با قاعدہ ماپ کر قرض واپس کرنا ہے۔کہتے ہیں کہ میں اس کام میں لگ گیا۔پھل میں ایسی برکت پڑی اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان یہودیوں کا سارا قرض نہ صرف اس پھل سے ادا ہو گیا بلکہ قرض کے تمہیں وسق یعنی قریباً 67 من کھجور دینے کے بعد قریباً 38 من کے قریب باقی بھی بیچ رہی اور یہ خاص حضور ﷺ کی دعاؤں کی برکت تھی ورنہ باغ کو دیکھنے کے بعد بھی یہی اندازہ ہوتا تھا کہ یہ پورے کا پورا بھی پھل قرض کے لئے کفایت نہ کر سکے گا۔دوسری روایت میں مزید تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں سے ایسی برکت رکھ دی کہ حضور علے جس ڈھیر پر بیٹھ کر خود ماپ کر یہود کو قرض دے رہے تھے ایسے لگتا تھا کہ اس ڈھیر سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ جوں کا توں ہے۔قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد جب میں دوڑتا ہوا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا اور یہ ذکر چھڑا کہ سارا قرض ادا ہو گیا ہے اور کھجوریں بچ بھی رہی ہیں۔حضور ﷺ بہت خوش تھے آپ نے فرمایا اچھا! حضرت عمر کو بلا و حضرت ابو بکر کو بھی اطلاع ہوئی اور وہ بھی تشریف لے آئے۔حضور نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ اے عمر جابر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ اس کے قرض کا کیا بنا؟ حضرت عمر کا ایمان بھی کیسا کامل اور تو کل کیسا عجیب تھا عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جابر سے کیوں پوچھوں آپ جب باغ میں چلے تھے اور زیر لب دعائیں کر رہے تھے مجھے تو اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ جابڑ کے حق میں ضرور کوئی معجزہ رونما ہوگا۔رسول اللہ ہے نے فرمایا پوچھو تو سہی کہ یہ کہتے کیا ہیں کیا واقعہ ہوا۔انہوں نے پھر کہا مجھے کامل ایمان اور یقین ہے کہ وہی معجزہ ہوا ہو گا جو حضور ﷺ کی برکت سے ہونا ہی تھا۔جب تیسری مرتبہ رسول پاک ﷺ نے