سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 479
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 479 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا انتظام شروع کیا۔مجھے اندازہ تھا کہ آنحضرت اُٹھتے ہی وضو کے لئے پانی طلب کریں گے۔میری خواہش تھی کہ آنحضرت ﷺ کے اٹھنے سے قبل ہی جتنی جلدی ہو سکے کھانے کا انتظام مکمل کرلوں اور آپ کے بیدار ہوتے ہی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ما حضر پیش کر دوں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا حضور اٹھے اور وضو کا پانی طلب کیا میں نے پانی وغیرہ پیش کیا پھر ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کر دیا تو کھانے میں گوشت دیکھ کر آنحضرت یہ فرمانے لگے اے جابر معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں خوب علم ہے کہ ہمیں گوشت مرغوب خاطر ہے اور تم نے بڑی چاہت سے یہ گوشت تیار کر کے ہمارے لئے دعوت کا انتظام کیا ہے۔حضرت ابو بکر وعمر بھی آکر شریک طعام ہوئے۔چشمے کا ٹھنڈا پانی بھی تھا۔میٹھے میں تازہ اور خشک کھجور بھی پیش کی گئی۔یہ خوان نعمت سجا تو آنحضرت ﷺ کا جذ بہ شکر عجب انداز میں ظاہر ہوا آپ فرمانے لگے دیکھو یہی وہ نعمتیں ہیں جن کا سورۃ التکاثر کے آخر میں ذکر ہے کہ اس حساب کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے کس حد تک شکر نعمت کا حق ادا کیا۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں پھر آنحضرت ﷺ اٹھے اور کھانے کے بعد فرمانے لگے کہ اچھا اب باغ کو دیکھتے ہیں کہ کتنا پھل ہے باغ میں چلتے پھرتے ہوئے حضور زیر لب دعا کرتے رہے۔اس موقع پر یہودی قرض خواہ بھی آئے ہوئے تھے۔حضور کو دعا کرتے ہوئے دیکھ کر انہیں جابر پر سخت غصہ آ رہا تھا۔آنحضور ﷺ نے ان سے پھر فرمایا ” دیکھو میں نے تم سے پہلے بھی کہا اب پھر سفارش کرتا ہوں جاب سے کچھ پھل اس سال لے لو کچھ اگلے سال لے لینا اور قرض میں مہلت دے دو۔انہوں نے کہا کہ ہم تو اس پر آمادہ اور تیار نہیں ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ دیکھ لو یہ یتیموں کا مال ہے اور اسی وجہ سے میں سفارش بھی کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم تو اپنا پورا پورا قرض واپس لینا چاہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے حضرت جابر سے فرمایا کہ اچھا تم ایسا کرو کہ جتنی اقسام کی کھجوریں یہاں ہیں وہ چنو اؤ باغ کو اؤ اور ہر قسم کی کھجور کے الگ الگ ڈھیر بنوادو اور پھر ماپ کر ان یہودیوں کا قرض دینا ہے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ دیکھو آنحضرت ہمارے ہاں تشریف لا رہے ہیں تم نے بالکل حضور ﷺ سے کوئی سوال نہیں کرنا۔