سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 481
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 481 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرمایا پوچھو تو سہی! حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ جب تیسری دفعہ صحابہ سے کوئی بات فرماتے تھے تو وہ سر تسلیم خم کر دیتے تھے حضرت عمرؓ نے کہا جابر بتاؤ تو سہی کہ ہوا کیا ؟ تب حضرت جابر نے پورا قصہ کہہ سنایا۔حضرت ابو بکر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے۔حضرت عمرؓ نے بھی کہا دیکھو رسول پاک ﷺ کی دعاؤں کے بعد اس خاص توجہ کے نتیجہ میں کیسا نشان ظاہر ہوا۔(7) الغرض حضرت جابر اور ان کا خاندان آنحضرت عاللہ کی محبتوں اور شفقتوں کا مورد ٹھہرا۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میرا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایک ایسا تعلق پیدا ہو گیا تھا کہ پھر میری زندگی میں کوئی ایسا غزوہ نہیں آیا کہ میں اس میں آپ سے پیچھے رہ گیا ہوں اور میں آپ کا ایسا گرویدہ ہوا کہ کوئی غزوہ مجھ سے خطا نہیں گیا چنانچہ حضور نے انہیں غزوات میں شرکت فرمائی ان میں سے سترہ میں مجھے شرکت کی توفیق ملی سوائے پہلے بدر اور احد کے غزوات کے۔حضرت جابران غزوات میں شرکت کے اپنے احوال بھی بیان کرتے تھے جو احادیث کی کتب میں بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہیں اور عشق و محبت کے عجیب واقعات ہیں۔جنگ خندق میں فاقہ اور جابر کی دعوت رسول ملے غزوہ خندق کے حوالے سے بھی حضرت جابر یہ قصہ بہت محبت بھرے انداز میں بیان کرتے تھے کہ حضور کے ساتھ ہم خندق کھودرہے تھے۔قحط اور فاقہ کا زمانہ تھا۔بھوک کی تکلیف کم کرنے کے لئے صحابہ نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔خندق کی کھدائی میں ایک سخت چٹان آگئی اور حضور خود کدال لے کر وہ سخت پتھر توڑنے کے لئے آگے بڑھے۔پیٹ سے کپڑا اٹھا تو ہم نے دیکھا کہ حضور نے شدت فاقہ سے بچنے کیلئے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے تھے اور ہم نے تین دن سے کچھ نہ کھایا تھا۔عاشق رسول حضرت جابر سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔فورا اپنے گھر گئے اور اپنی بیوی سے جا کر کہا کہ میں نے اپنے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کی فاقہ کی ایسی حالت دیکھی ہے جو خدا کی قسم نا قابل برداشت ہے پس تمہارے پاس جو بھی میسر ہے اس سے کھانے کا کچھ بندوبست کرو۔اس نے کہا میرے پاس جو ہیں اور گھر میں ایک چھوٹا سا پالتو بکرا ہے۔میں نے وہ بکرا ذبح کیا اور اس نے جو میں لئے۔گوشت ہنڈیا میں ڈال کر پکنے کے لئے رکھ دیا گیا اور آٹا گوندھنے کے بعد