سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 438
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 438 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرمایا تھا کہ جو مجاہد کسی کا فر کو قتل کرے گا اس کا اسلحہ اور سواری بطور مال غنیمت اسے ملیں گے۔ابوطلحہ کے ہاتھوں اس روز ہمیں دشمنان اسلام ہلاک ہوکر کیفر کردار کو پہنچے۔(26) ابوطلحہ کی ایک اور سعادت رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد تدفین کیلئے جب یہ سوال پیدا ہوا کہ لحد بنائی جائے یا سیدھی قبر ہو تو حضرت عباس نے یہ معاملہ منشاء الہی کے حوالے کرتے ہوئے دو آدمی بیک وقت دونوں قسم کی قبر بنانے والوں کی طرف دوڑا دیئے۔ابوعبید سیدھی قبر بناتے تھے جسے شق کہتے ہیں ان کی طرف جو قاصد گیا وہ اسے مل نہ سکے۔ابوطلحہ محد بناتے تھے۔ان کی طرف بھیجا ہوا آدمی کامیاب واپس لوٹا اور ابوطلحہ کو ہمراہ لایا۔چنانچہ نبی کریم ﷺ کی لحد بنانے کی سعادت بھی ابوطلحہ کے حصہ میں آئی۔(27) اور یوں عمر بھر خدمات رسول علے بجالانے والے ابوطلحہ کو اس آخری خدمت کی بھی توفیق ملی۔شوق جہاد نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی بڑھاپے کی عمر میں جذ بہ وشوق جہاد سرد نہیں ہوا۔چنانچہ خلافت ابوبکر و عمر میں بھی جہاد کی تو فیق پاتے رہے بلکہ حضرت عثمان کے زمانہ میں جب پہلا اسلامی بحری بیٹ مہم پر روانہ ہونے لگا تو حضرت ابوطلحہ نے اس میں شرکت کی خواہش کی اور گھر والوں کو اس کیلئے اس طرح آمادہ کیا کہ قرآن شریف میں اِنْفِرُوا خِفَافَا وَ ثِقَالًا وَ جَاهِدُوا ( التوبه : 41) کا حکم ہے یعنی جہاد کیلئے ہلکے اور بوجھل ہر حال میں نکلو اور جہاد کروفرماتے تھے کہ اس آیت میں بوڑھوں اور جوانوں دونوں کیلئے حکم ہے کہ جہاد کیلئے نکلیں۔بیٹوں نے کہا آپ کو تو رسول اللہ اور پھر ابوبکر و عمر کے زمانہ میں جہاد کی سعادت عطا ہوئی۔اب ہم جو یہ فرض ادا کرنے کیلئے حاضر ہیں آپ آرام کریں ، مگر انہوں نے اصرار کر کے اس بحری سفر پر جانے کی تیاری کر کے روانہ ہوئے۔اسی سفر میں ان کی وفات ہو گئی۔دوران سفر ساتویں دن ایک جزیرہ کے پاس بحری بیڑہ آکر رکا تو وہاں انہیں دفن کیا گیا اس عرصہ میں آپ کی نعش بالکل محفوظ رہی اور اس میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔