سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 439 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 439

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 439 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ حضرت ابوطلحہ کی وفات 34 ھ میں ہوئی۔حضرت عثمان نے نماز جنازہ پڑھائی۔(28) روایت حدیث میں احتیاط حضرت ابو طلحہ کو اگر چہ رسول کریم ﷺ کی صحبت و رفاقت میں ایک لمبا عرصہ گزارنے کی سعادت عطا ہوئی۔مگر اپنی تواضع اور انکساری نیز احادیث کے بیان میں احتیاط کے باعث آپ کی روایات بہت کم ہیں۔اور جو روایات ہیں وہ آپ کی گہری دینی بصیرت ، عمدہ مذاق اور معتدل مزاج کو ظاہر کرتی ہیں ، ایک اہم روایت دین اسلام کی طبعی سہولت اور نرمی سے متعلق رکھتی ہے۔جس میں قرآن شریف کی صحت کے ساتھ تلاوت میں شدت اور سختی اختیار کر کے اسے مشکل بنانے کی بجائے ایک بنیادی عمومی اصول مد نظر رکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔حضرت ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے سامنے قرآن شریف کی قراءت میں کچھ تغیر کیا، حضرت عمر نے کہا کہ میں نے تو نبی کریم ہے کے سامنے یہ تلاوت اس طرح کی تھی جو قدرے مختلف تھی۔ابوطلحہ کہتے ہیں اس کے بعد ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس شخص نے قراءت کی تو حضور نے اس شخص کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے درست تلاوت کی ہے۔حضرت عمر کو کچھ ناگواری ہوئی کیونکہ ان کے اعلیٰ معیار پر وہ قراءت پوری نہیں اترتی تھی۔تب آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر! قرآن شریف کی ہر قراءت درست ہے۔بشرطیکہ یہ بنیادی بات مدنظر رہے کہ اسمیں معنوی تبدیلی نہ ہو اور معنے ایسے الٹ پلٹ نہ ہو جائیں کہ عذاب کی جگہ مغفرت و بخشش کا مضمون اور بخشش کی جگہ عذاب کا مضمون بنا دیا جائے۔(29) دیگر روایات کا تعلق بھی اس عاشق رسول کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس قلبی لگاؤ اور محبت سے ہے جو ان کی طبیعت کا حصہ تھا۔بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ علہ بہت ہشاش بشاش تھے۔چہرے سے خوشی کے آثار ہویدا تھے، صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول آج خاص بشاشت اور مسرت کے آثار نمایاں ہیں؟ فرمایا ہاں میرے رب کی طرف سے ایک آنے والے نے آکر مجھے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ " آپ کی امت میں سے آپ پر اگر کوئی ایک دفعہ درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دس نیکیاں شمار کرے گا اور دس خطائیں معاف کرے گا اور اس کے دس درجے بلند کئے