سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 433 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 433

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 433 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ ہی ہوا اور مین کھانے کے وقت گھر کی مالکہ چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھیں اور اسے گل کر دیا تا کہ رسول اللہ ﷺ کا مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھالے اور اس طرح خود میزبان کھانے میں عملاً شریک نہ ہوئے مگر مہمان کے اعزاز و اکرام کی خاطر یہی کرتے رہے کہ گویا وہ کھانے میں شریک ہیں۔خالی منہ ہلاتے ہوئے مچا کے لیتے رہے ، رات فاقہ سے گزاری اور رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر داری میں فرق نہ آنے دیا۔صبح جب ابوطلحہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ رات ہمارے مہمان کے ساتھ جو سلوک تم لوگوں نے کیا خدا تعالیٰ بھی اس پر خوش ہو کر مسکرارہا تھا اور تمہاری یہ ادا ئیں اسے بہت پسند آئیں۔صحابہ رسول کے ارشاد کا یہی وہ مضمون ہے جو قرآن شریف میں سورۃ الحشر آیت 10 میں بیان ہوا ہے یعنی خدا کے وہ مومن بندے اپنے نفسوں پر اپنے بھائیوں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ خود تنگی سے کیوں نہ ہوں۔(14) صبر ورضا حضرت ابوطلحہ اور ان کی اہلیہ صبر ورضا کے بھی پیکر تھے۔بعض ایسے عجیب نمونے میاں بیوی سے ظاہر ہوئے کہ عام حالات میں ان پر یقین کرنا ممکن نظر نہیں آتا مگر فی الحقیقت ایسے واقعات رونما ہوئے۔ایک دفعہ حضرت ابوطلحہ کا بیٹا شدید بیمار تھا نہیں گھر سے باہر کسی کام سے جانا پڑا۔دریں اثناء بچہ بقضائے الہی فوت ہو گیا۔رات گئے واپس آکر ابوطلحہ نے بچے کا حال پوچھا آپ کی اہلیہ ام سلیم نے کمال صبر و رضا کے ساتھ یہ ذو معنی جواب دیا کہ بچہ پر سکون ہے اور مجھے امید ہے کہ اسے مکمل آرام ہے۔حضرت ابوطلحہ نے اس سے ظاہری صحت کا مفہوم مراد لیا اور میاں بیوی نے خلوت میں رات بسر کی۔ابوطلحہ اگلی صبح جب نماز کیلئے مسجد نبوی جانے لگے ام سلیم نے کہا کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنی امانت ہم سے واپس لے لی ہے اور بچہ کے پرسکون ہونے سے میری یہی مراد تھی ابوطلحہ اس پر بہت تلملائے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جا کر شکایتاً عرض کیا کہ ام سلیم نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے آج رات کے ملاپ میں برکت ڈالے گا ، چنانچہ حضرت ام سلیم کے صبر و رضا کی یہ ادا اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی مقبول ٹھہری اور ان کی اولاد میں ایسی برکت پڑی کہ دس بیٹے ہوئے اور سب کے سب قرآن کے حافظ تھے۔(15)