سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 434 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 434

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 434 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کو ابوطلحہ اور ان کی قوم سے جو محبت تھی اس کا اندازہ اس پیغام سے خوب ہوتا ہے جو حضور نے بوقت وفات ابوطلحہ کو دیا کہ اپنی قوم کو میرا سلام پہنچانا بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں جو مجسم صبر ورضا ہیں گویا انہوں نے صبر کی لگا میں پہن رکھی ہیں۔صبر جمیل کی اس سے اعلیٰ تصویر کشی اور کیا ہو سکتی ہے۔(16) مالی قربانی حضرت ابوطلحہ مدینہ کے مالدار رئیس تھے مالی قربانی کے میدان میں بھی آپ کسی سے پیچھے نہ تھے بلکہ قربانی کا اعلیٰ ذوق تھا۔چنانچہ بعض ایسی تاریخی اور مثالی قربانیوں کی تو فیق آپ نے پائی جو ہمیشہ یادرکھی جائیں گی۔مسجد نبوی کے سامنے حضرت ابوطلیہ کو کھجوروں کا ایک قیمتی باغ تھا جو بیرحاء“ کے نام سے مشہور تھا نبی کریم اس باغ میں تشریف لے جا کر گا ہے لگا ہے آرام فرماتے اور اس کے پھل اور تازہ پانی کے لطف اندوز ہوتے جب قرآن شریف کی یہ آیت اتری۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : 93) کہ کامل نیکی یہ ہے کہ تم وہ چیز خرچ کرو جو تمہیں زیادہ دل پسند اور محبوب ہے۔حضرت ابوطلحہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ اللہ تعالی مالی قربانی کے بارہ میں یہ ہدایت دیتا ہے اور میرا سب سے قیمتی اور پیارا باغ بیرحاء“ ہے۔آج سے میں یہ باغ اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور خدا سے اس کے اجر و ثواب کا امیدوار ہوں۔آپ جیسے پسند فرمائیں اسے استعمال میں لائیں۔رسول کریم ہے اس عظیم قربانی پر بہت خوش ہوئے اور ابوطلحہ سے فرمایا کہ واہ واہ ! یہ تو بہت نفع بخش سودا ہے۔پھر حضور ﷺ نے وہ باغ ابوطلحہ کے غریب رشتہ داروں میں تقسیم کروا دیا، فرمایا ہم نے یہ صدقہ قبول کیا۔اب آپ اپنے مستحق رشتہ داروں میں تقسیم کر دیں۔(17) اطاعت رسول ما حضرت ابوطلحہ نے اطاعت رسول کے میدان میں بھی ایسے بے نظیر نمونے چھوڑے ہیں۔جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھے جائیں گے، ایسی نا قابل فراموش مثالیں سچے عشق کے