سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 432 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 432

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 432 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ اللہ کے استقبال کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور حضور کو خود اپنے ساتھ لے کر آئے۔حضور نے آتے ہی ام سلیم سے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے کر آؤ۔ام سلیم وہی روٹیاں لے آئیں۔رسول کریم معدہ کے حکم پر ان روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے گئے اور ام سلیم نے اپنے ایک گھی کے بر تین میں پڑا کچھ گھی نکال کر ان پر ڈالا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پر دعا کی اور فرمایا کہ دس دس کر کے صحابہ اندر آتے جائیں اور کھانا کھاتے جائیں۔اس طرح موجود تمام حاضرین نے کھانا تناول کیا جن کی تعداد ستر کے قریب تھی۔(13) اس واقعہ سے جہاں ابوطلحہ کی محبت و ادب رسول اور ام سلیم کے تو کل علی اللہ کا اندازہ ہوتا ہے وہاں نبی کریم ﷺ کی سیرت کا یہ خوبصورت پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ فاقہ کی حالت میں بھی تنہا کھانا پسند نہیں فرمایا جب تک اپنے فاقہ زدہ غلاموں کو بھی ساتھ شامل کر لیا، اور ابوطلحہ کے چند روٹیاں بھیجوانے کا ایسا لحاظ کیا کہ ان کے گھر تشریف لے جا کر انہی روٹیوں سے نہ صرف تمام صحابہ کی مہمان نوازی کروائی بلکہ سب کو ابوطلحہ کیلئے دعاؤں کا موقع بھی بہم پہنچایا اور یوں صحابہ کے مابین اخوت مودت کی ایک خوشگوار فضا قائم فرمائی۔ایثار ابوطلحہ اور ان کے خاندان کو ایسی مہمان نوازی کی سعادت ان کے ایثار اور اہل خانہ کے خلوص کے باعث میسر آتی ہی رہتی تھی۔چنانچہ ایک اور موقع پر نبی کریم کے کے پاس ایک مہمان آیا۔آپ نے سب سے پہلے تو اپنے گھر ازواج مطہرات کے ہاں پیغام بھجوایا کہ مہمان نوازی کا کچھ انتظام کریں۔اتفاق سے اس تنگی و فاقہ کے زمانہ میں کسی گھر سے کچھ میسر نہ آیا۔اس کے باوجود نبی کریم نے اکرام ضیف کا بندو بست کرنے کیلئے صحابہ کو تحریک فرمائی کہ کون اس مہمان کو اپنے گھر لے جا کر تواضع کر سکتا ہے۔حضرت ابوطلحہ نے بخوشی اس کی حامی بھر لی اور گھر جا کر اپنی اہلیہ سے کہا کہ رسول اللہ اللہ کا مہمان آیا ہے اس کی ضیافت کا اہتمام کریں۔انہوں نے اپنی بے چارگی کا ذکر کیا کہ گھر میں تو صرف بچوں کیلئے معمولی سا کھانا ہے۔لیکن ان ایثار پیشہ میاں بیوی نے یہ خوبصورت تدبیر کی کہ بچوں کو بھوکے سلا دیا جائے اور کھانا تیار کر کے مہمان کی خدمت میں پیش کیا جائے۔چنانچہ ایسا