سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 409
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 409 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ذات نے ذمہ اُٹھایا ہے۔کسی آیت کی منسوخی کے بعد بہتر لانے کے مضمون میں دراصل توریت کی آیت رجم کی طرف اشارہ ہے۔جس کے مطابق رسول اللہ نے ایک یہودی جوڑے کو بد کاری کے جرم میں رحم کیا تھا۔(32) گویا حضرت عمر بھی آیت الرجم کو کسی قرآنی آیت کی تفسیر سمجھتے تھے۔حضرت ابی گوسورہ احزاب کے حوالہ سے رجم کا کوئی واقعہ یاد تھا۔در اصل سورۃ احزاب آیت میں قُتِلُوا تَقْتِيلا (الاحزاب:62) میں تقتیل یعنی موت یا رجم کی سزا ان اشاعت فاحشہ کے مرتکب زنا کاروں کے لئے خاص ہے جنہوں نے مدینہ میں فحاشی کے اڈے قائم کر رکھے تھے۔پھر سُنَّةَ اللهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ( الاحزاب:62) میں اشارہ ہے کہ پہلوں میں یہ سزا بطور الہی قانون تھی۔جواب صرف مخصوص حالات میں ہی نافذ ہو سکتی ہے۔کیونکہ سورہ نور کے نزول کے بعد سو کوڑوں کی سزا جرم زنا کی اصل حد ہے۔اس وضاحت کی روشنی میں حضرت ابی کی وہ روایت حل ہو جاتی ہے جس سے بعض لوگ غلط فہمی سے سورۃ احزاب کا ایک حصہ منسوخ خیال کر بیٹھے ہیں۔حالانکہ حضرت ابی بن کعب کا یہ قول کہ” میں نے سورۂ احزاب کو اس وقت بھی دیکھا ہے جب یہ بقرہ کے برابر تھی۔“ (33) یوں حل ہو سکتا ہے کہ احزاب قدیم النزول سورت ہے اور بقرہ طویل النزول (جس کا زمانہ دو ہجری سے نو ہجری تک ممتد ہے ) حضرت ابی بن کعب کی یہ مراد ہوسکتی ہے کہ جب بقرہ احزاب کے برابر تھی یعنی اس کی صرف تہتر آیات اتری تھیں۔اس وقت تک سورۃ احزاب ( کی 73 آیات) مکمل نازل ہو چکی تھی۔دراصل یہود مدینہ مرورزمانہ سے تو رات کا حکم رحم ترک کر چکے تھے۔رسول اللہ ہے کے پاس یہودی مرد و عورت جرم زنا میں لائے گئے آپ نے تو رات منگوا کر زنا کی سزا کا حکم تو ریت سے عربی میں پڑھوایا۔جو عبرانی سے ترجمہ ہو کر یوں پڑھا گیا۔الشَّيْخُ وَالشَّيْحَةُ إِذَا زَنَيَا فَارُ جُمُوهُما کہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت اگر زنا کریں تو ان کور جم کر دو۔پھر اس کی تعمیل میں آپ نے ان کو رجم کر وایا اور فرمایا ” میں پہلا شخص ہوں جو اللہ کے اس حکم کو زندہ کر رہا ہوں۔‘ (34) رسول الله علہ کے منہ سے تو رات کی یہ آیت سن کر اور اس پر عمل ہوتے دیکھ کر غالبا حضرت ابی اسے سورۃ احزاب کی آیات میں سے ایک آیت سمجھنے لگے حضرت عمرؓ نے اسکی سیچ فرما دی۔حضرت