سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 408
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 408 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نہایت حکمت سے جواب دیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود جو یہ کہتے ہیں کہ سارے سال عبادت کروتو لیلۃ القدر ملے گی ان کا مطلب یہ ہے کہ تم سارا سال عبادت چھوڑ کر محض کسی ایک رات پر انحصار نہ کر بیٹھو ورنہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رمضان کی طاق راتوں میں ایک رات لیلۃ القدر بھی ہوتی ہے جو ہم نے خود 27 رمضان کو پائی۔(28) یوں اس عالم با عمل نے اپنے ذاتی تجربہ سے یہ مسئلہ حل کر دیا۔حضرت ابی کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ہمیں یا ہمارے مال کو جو بیماریاں یا نقصان پہنچتے ہیں ان کا کیا سبب ہے؟ آپ نے فرمایا یہ گناہوں کو دور کرنے کے لئے ہیں۔ابی بن کعب نے عرض کیا خواہ چھوٹی سی بیماری ہو آپ نے فرمایا خواہ کانٹا ہی چھے یا اس سے بھی کم تکلیف ہو۔اس پر ابی نے یہ دعا کی کہ انہیں بخار موت تک نہ چھوڑے مگر ایسا نہ ہو کہ حج وعمرہ یا جہاد اور فرض نماز با جماعت کی ادائیگی سے روک دے۔چنانچہ انہیں مسلسل بخار رہتا تھا اور جب بھی کوئی ان کا جسم چھوٹے حرارت محسوس ہوتی تھی۔اور یہ حالت وفات تک رہی۔(29) حضرت عمرؓ کے زمانہ میں آپ کو علمی خدمات کی توفیق ملتی رہی۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ سے بے تکلفی سے پوچھا کہ آپ نے مجھے امیر مقرر نہیں کیا؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے پسند نہیں کہ آپ کا دین آلودہ ہو۔(30) آیت الرحم کا مسئلہ جس طرح ہر ما ہر شخص کے لئے بشری غلطی یا نسیان کا امکان ہوتا ہے اسی طرح حضرت ابی کے ماہر قاری ہونے کے باوجود خلیفتہ المسلمین حضرت عمر نے ان کا یہ موقف قبول نہیں فرمایا کہ رجم کی آیت قرآن میں شامل تھی۔چنانچہ حضرت عمر فر مایا کرتے تھے کہ بے شک ہم میں سے بہتری قاری ائی ہیں، لیکن ہمیں ابی کا یہ موقف تسلیم نہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ رسول اللہ کے منہ سے جو سن لیا اسے کبھی نہیں چھوڑیں گے خواہ اس کے بعد اور وحی اتری ہو۔حالانکہ اللہ فرماتا ہے مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنُسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا ( البقرة: 107) یعنی ہم کوئی آیت منسوخ نہیں کرتے نہ ہی اسے بھلاتے ہیں مگر اس سے بہتر لے کر آتے ہیں۔(31) حضرت عمر کا یہ فیصلہ دراصل ان قرآنی آیات کی تفسیر ہے کہ قرآن کی حفاظت کا خود اللہ کی