سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 410 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 410

410 سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ابی خود بھی فرمایا کرتے تھے کہ قرآن میں اضافہ کے اعتراض کا خدشہ نہ ہوتا تو میں آیت الرحم قرآن میں (بطور تفسیر ) لکھوا دیتا۔سورہ احزاب میں آیت الرحم پڑھنے کا یہی مطلب ہے کہ سورہ احزاب کی آیات ۶۱ تا ۶۳ نزول کے لحاظ سے سورہ نور کی آیت تجلید ( کوڑوں کے حکم والی ) سے بھی پہلی کی ہیں۔اور کوڑوں کے حکم سے پہلے آیت سُنَّةَ اللهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ( الاحزاب:62) کی تفسیر میں مسلمان توریت کی آیت الرحم پڑھا کرتے تھے اور اس کا حکم عام رائج تھا۔بعد میں کوڑوں کا حکم اصل اور عام ہو گیا اور رحم کا حکم صرف زنا کے عادی مجرموں اور اس کی تشہیر کرنے والوں کے لئے خاص رہا۔سیدا المسلمین کا انکسار حضرت جندب بن عبداللہ المجلی بیان کرتے ہیں کہ میں حصول علم کی خاطر مد ینہ آیا۔مسجد نبوی میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں بیٹھے علمی گفتگو کر رہے ہیں۔دینی باتیں ہورہی ہیں۔ایک حلقے میں ایک شخص دو چادر میں زیب تن کئے سادہ لباس میں ہے۔ایسے لگتا ہے کہ سفر سے آیا ہے۔میں اس حلقہ میں بیٹھ گیا۔ان کی باتیں سنیں تو بڑی پسند آئیں۔مجلس برخاست ہوئی۔میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب تھے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ سید المسلمین ابی بن کعب تھے۔میں نے سوچا کہ ان سے تو اور صحبت ہونی چاہیئے۔چنانچہ ان کے پیچھے ہو چلا۔ان کے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی سادہ سا گھر ہے۔عجیب زاہدانہ زندگی حضرت ابی بن کعب گزار رہے تھے۔میں نے جا کر سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا۔اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا میں اہل عراق میں سے ہوں۔وہ فرمانے لگے اچھا وہی عراقی جو سوال بہت کرتے ہیں۔کہتے ہیں مجھے اس پر طیش آ گیا میں نے اسی وقت گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھالئے اور قبلہ رخ ہو کر یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ ہم تجھ سے شکایت کرتے ہیں۔دیکھ ہم اتنی دور سے مال خرچ کر کے اپنی سواریاں تھکاتے ہوئے مدینہ میں حصول علم دین کے لئے آتے ہیں۔اور یہ لوگ ہم سے سختی کرتے ہیں۔“ حضرت ابی بن کعب کی خدا ترسی ملاحظہ ہو۔اسی وقت رونے لگ گئے۔جندب کہتے ہیں وہ مجھے منانے لگے اور ساتھ کہتے جاتے تھے کہ میرا ہر گز یہ مطلب نہ تھا میرا ہر گز یہ مطلب نہ تھا۔دراصل کچھ