سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 322
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 322 حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ لوگوں نے کم سن اور غلام کا لڑکا ہونے کی وجہ سے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔آنحضرت گھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تم اسامہ پر عیب لگاتے ہو اور اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ کے بارہ میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔حالانکہ وہ امارت کا اہل تھا اور تمام لوگوں سے زیادہ وہ مجھے محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارا ہے۔پس اس کے بارہ میں تمہیں تا کیدی حکم دیتا ہوں۔وہ تمہارے نیک لوگوں میں سے ہے۔‘ (8) نیز رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں اسامہ کے زیر قیادت لشکر کی روانگی کی وصیت فرمائی۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر خلیفہ اول نے لشکر روانہ کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت عمر نے رائے پیش کی کہ ان نازک حالات میں جبکہ نو مسلم مرتد ہو چکے ہیں اور بہتیرے زکوۃ سے منکر ہیں۔اندرونی انتشار کو فرو کرنے کے بعد یہ لشکر روانہ کیا جائے۔حضرت ابوبکر نے نہایت جلال سے فرمایا ” خدا کی قسم اگر مدینہ کی گلیوں میں کتے عورتوں کو گھسیٹتے پھریں تو بھی اسامہ کے لشکر کو نہیں روکوں گا۔کیا قحافہ کا بیٹا ابوبکر خلیفہ بنتے ہی پہلا کام یہ کرے کہ رسول اللہ ﷺ کا قائم کردہ لشکر روک دے۔“ چنانچہ ان نازک حالات میں حضرت ابو بکر نے اسامہ کے لشکر کو روانہ فرما دیا۔آپ شہر کے باہر تک الوداع کرنے ساتھ گئے۔اسامہ گھوڑے پر سوار تھے اور خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر ساتھ پیدل چل رہے تھے۔تب حضرت ابو بکر نے اسامہ سے کہا ”اگر مناسب سمجھوتو عمر کو میری مدد کے لئے پیچھے چھوڑ دو۔“ چنانچہ حضرت اسامہ نے حضرت عمر کو بخوشی اجازت دے دی۔اسی موقع پر بعض لوگوں نے پھر اسامہ کی امارت پر اعتراض کیا اور حضرت ابوبکر سے عرض کی کہ امیر لشکر کسی تجربہ کار شخص کو بنایا جائے۔جبکہ لشکر میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں۔آپ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے جسے قائد مقررفرمایا تھا، وہی اس لشکر کا امیر ہوگا۔حضرت عمرؓ خلیفہ ہو گئے مگر پھر بھی جب حضرت اسامہ سے ملتے تو فرماتے اے امیر! آپ پر سلامتی ہو۔اسامہ کہتے امیر المؤمنین ! اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے آپ میرے جیسے غلام کیلئے یہ الفاظ استعمال فرماتے ہیں۔حضرت عمر فر ماتے میں تو آپ کو تاحیات