سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 321
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 321 حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ رو پڑے تھے۔سعد بن عبادہ نے عرض کی حضور ﷺ یہ کیا؟ فرمایا یہ جذبہ محبت ہے۔غزوات میں شرکت آنحضرت کے زمانہ میں حضرت اسامہ کم سن تھے۔تاہم آپ کو بھی بعض لڑائیوں میں شامل ہونے کا موقع ملا۔چنانچہ ان کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک لڑائی کے موقع پر ایک کافر سامنے آیا۔جب اسامہ وار کرنے لگے تو اس نے کلمہ شہادت پڑھ دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔حضرت اسامہ نے اسے قتل کر دیا کہ موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول پاک کے پاس اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کیا اس شخص کے کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد تو نے اسے قتل کر دیا ؟ میں نے عرض کی حضور اس نے تو محض بیچنے کی خاطر کلمہ پڑھا تھا۔فرمایا کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا۔اور پھر فرمایا کہ کیا تو نے اسے کلمہ شہادت پڑھنے کے باوجود قتل کر دیا ؟ اسامہ کہتے ہیں کہ حضور علی اللہ نے یہ فقرہ ( ناراضگی کے عالم میں ) اتنی بار دوہرایا کہ میں نے چاہا کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوتا۔آج اسلام لا تا تو یہ غلطی سرزد نہ ہوتی اور رسول الله الله کی اس ناراضگی سے بچ جاتا۔(6) اسامہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے عہد کر لیا کہ آئندہ کبھی کسی شخص کو جو لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھے گا قتل نہیں کروں گا۔اسی لئے آپ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے زمانہ میں ان کے ساتھ جنگوں میں شامل نہ ہوئے اور یہی وجہ پیش کی کہ مبادا جنگ میں کسی کلمہ پڑھنے والے شخص کو قتل کر بیٹھوں۔آپ نے حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ایام فتن دیکھے، لیکن فتنوں سے علیحدہ رہے اور یہ زمانہ الگ تھلگ گزا دیا۔علی بن خشرم کہتے ہیں کہ میں نے امام وکیع سے پوچھا کہ فتنہ میں کون محفوظ رہا تو فرمانے لگے۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں سے جو معروف لوگ فتنہ سے محفوظ رہے وہ چار ہیں۔سعد بن مالک ، عبداللہ بن عمر محمد بن مسلمہ اور اسامہ بن زید۔(7) امیر لشکر آنحضرت ﷺ نے جب اٹھارہ برس کی عمر میں حضرت اسامہ کوامیر لشکر مقر فرمایا تو بعض