سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 313
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 313 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہے حضرت زینب نے بھی کیسا پاکیزہ اور متوکلانہ جواب دیا میں کسی بھی کام کا فیصلہ استخارہ کے بغیر نہیں کرتی۔چنانچہ اسی وقت وہ اپنی سجدہ گاہ میں دعا کے لئے کھڑی ہو گئیں۔دریں اثناء قرآن شریف کی سورۃ احزاب کی آیت 38 بھی نازل ہوگئی جس میں حضرت زینب سے آنحضرت کے نکاح کا ذکر ہے چنانچہ اس کے بعد یہ رشتہ طے پایا۔(12) ہجرت مدینہ جب مدینہ ہجرت ہوئی تو حضرت زید کلثوم بن ہرم کے مکان پر آکر ٹھہرے۔نبی کریم ﷺ نے قبیلہ اوس کے سردار اسید بن حضیر اور حضرت زید کی مواخات قائم فرمائی۔جب عقبہ بن ابی معیط سردار قریش کی بیٹی ام کلثوم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائیں تو حضور علی کے ہم زلف حضرت زبیر بن العوام آپ کے داماد حضرت عثمان بن عفان معززین قریش حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت عمر و بن العاص نے انہیں شادی کا پیغام بھیجا۔حضرت زید نے بھی پیغام بھجوایا۔ام کلثوم نے رسول کریم ﷺ سے مشورہ کیا تو آپ نے حضرت زید کے حق میں رائے دی چنانچہ ام کلثوم سے ان کی شادی ہوگئی۔حضرت زید ز بر دست تیرانداز تھے اور غیر معمولی قائدانہ صلاحیتیں رکھتے تھے۔جملہ غزوات بدر، احد، خندق، حدیبیہ، خیبر اور فتح مکہ میں شرکت فرمائی۔غزوۃ المریسیع کے موقع پر نبی کریم ہے نے آپ کو مدینہ میں امیر مقرر فرمایا۔اس کے علاوہ آنحضرت نے نومہمات مختلف اطراف میں حضرت زید کی سرکردگی میں بھجوائیں اور انہیں ان کا امیر مقرر فرمایا۔حضرت سلمہ بن الاکوع بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوا اور حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ نومہمات میں شریک ہوا جن میں رسول کریم نے انہیں ہم پر امیر مقرر فرمایا۔(13) حضرت زید ایک دعا گو اور خدا پر توکل کرنے والے انسان تھے۔ایک دفعہ انہوں نے طائف سے خچر اور مزدور کرایہ پر لیا۔راستہ میں ایک ویرانہ آیا تو خچر والے نے وہاں رک کر انہیں اتار دیا۔کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں کئی لاشیں پڑی ہیں۔حضرت زید کو بھی اس نے قتل کرنا چاہا تو انہوں نے خواہش کی کہ مجھے دو رکعت نماز ادا کر لینے دو۔اس نے کہا ان سب لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا مگر نماز ان کے