سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 314 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 314

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 314 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کچھ کام نہ آئی۔نماز کے بعد جب وہ مزدور انہیں قتل کرنے لگا تو انہوں نے دعا کی کہ ائے ارحم الراحمین ! اچانک ایک آواز آئی ” اسے قتل نہ کرو۔وہ ڈر گیا ادھر ادھر دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا تین دفعہ ایسا ہوا پھر اچانک ایک گھڑ سوار نمودار ہوا جس کے ہاتھ میں لوہے کی برچھی تھی اور سر پر آگ کا شعلہ نظر آتا تھا۔اس سوار نے اس شخص کو ہلاک کر دیا پھر اس فرشتہ نے زیڈ سے کہا کہ جب تم نے پہلی دفعہ کہا ارحم الراحمین تو میں ساتویں آسمان پر تھا۔دوسری آواز پر دوسرے آسمان پر اور تیسری پر تمہارے پاس تمہاری مدد کو پہنچا۔(14) قائدانہ صلاحیت اور سنت رسول علی حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جب بھی کسی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو روانہ فرمایا ہمیشہ لشکر کی امارت ان ہی کے سپرد فرمائی اور اگر وہ آپ کے بعد زندہ رہتے تو شاید انہیں آپ کی جانشینی کی بھی توفیق ملاتی۔بے شک یہ حضرت عائشہ کی اپنی ذاتی رائے ہے، مگر اس سے بنی کریم کے نزدیک حضرت زید کے مقام کا اندازہ بھی ہوتا ہے حضرت زید کے بعد نبی کریم نے ان کے جواں سال بیٹے اسامہ کو اپنی وفات سے پہلے ایک لشکر کا امیر مقرر فرمایا تو اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا نبی کریم نے اس موقع پر ایک تقریر فرمائی۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آج تم نے اسامہ کی امارت پر اعتراض کیا ہے تم نے اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا اور خدا کی قسم اسامہ امارت کے لائق اور قابل ہے اور وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ پیارا ہے۔“ (15) حضرت زیڈ کے لئے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارہ میں نبی کریم کا یہ اظہار یقیناً قابل رشک ہے حضرت زید سے رسول کریم کی محبت کے بے ساختہ اظہار کا ایک خوبصورت واقعہ حضرت عائشہ یوں بیان فرماتی ہیں کہ زید بن حارثہ کسی مہم سے واپس مدینہ تشریف لائے اور رسول کریم میرے گھر میں تشریف فرما تھے۔حضرت زید ملاقات کے لئے حاضر خدمت ہوئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔آنحضرت اپنے اس فدائی خادم کے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے۔ان کا بوسہ لیا اور گلے لگایا۔(16) حضور ﷺ کی اس محبت شفقت کے باعث تمام صحابہ آپ سے محبت کرتے تھے۔حضرت