سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 312
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 312 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِى اَزْوَاجِ اَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللهِ مَفْعُولًا (الاحزاب: 38) یعنی جب زیڈ نے اس عورت کے بارہ میں اپنی خواہش پوری کر لی یعنی طلاق دے دی تو ہم نے اس عورت کا تجھ سے بیاہ کر دیا تا کہ مومنوں کے دلوں میں اپنے لے پالکوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کے متعلق ان کو طلاق دے دینے کی صورت میں کوئی خلش نہ رہے اور خدا کا فیصلہ بہر حال پورا ہوکر رہنا تھا۔متبنی کی رسم کالعدم ہونے کے حوالے سے حضرت زید کو یہ منفر د سعادت اور اعزاز وشرف بھی حاصل ہو گیا کہ وہ واحد صحابی رسول ہیں جن کا نام قرآن شریف میں مذکور ہوا۔اس پر طرہ یہ کہ اس موقع پر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کا مقام خاتم النبین کے حوالے سے بیان کیا گیا کہ آپ مسلمان مردوں میں سے کسی کے حقیقی باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں گویا آپ کو روحانی ابوت اپنی امت بلکہ تمام انبیاء کی حاصل ہے۔حضرت زینب کے ساتھ عقد کی الہی تقدیر کے پورا کرنے کے لئے آقا ومولا حضرت محمد مصطفیٰ نے جو خوبصورت تدبیر اختیار کی ، اس پر دل عش عش کر اٹھتا ہے اور آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ اور اپنے خدام کے جذبات کا خیال رکھنے کے لحاظ سے انسان آپ کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔چنانچہ حضور نے حضرت زینب کو شادی کا پیغام بھجوانے کے لئے حضرت زید ہی کا انتخاب فرمایا۔یہ احکام پردہ کے نزول سے پہلے کی بات ہے، حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت زینب کی عدت ختم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید و فر مایا کہ آپ میری طرف سے حضرت زینب کے پاس جا کر میرا شادی کا پیغام دیں۔حضرت زیڈ گئے تو حضرت زینب گھر کے کام کاج میں مصروف تھیں حضرت زید کا اپنا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس پیغام کی وجہ سے حضرت زینب کا ایک عظیم مقام میرے دل میں پیدا ہو چکا تھا یہاں تک کہ مجھے ان کی طرف دیکھنے اور نظریں ملانے کی بھی ہمت نہیں ہورہی تھی۔چنانچہ میں ان کی طرف پشت کر کے کھڑا ہو گیا اور وہیں سے انہیں متوجہ کر کے آواز دی کہ اے زینب آپ کو بشارت ہو مجھے خدا کے رسول ﷺ نے آپ کے پاس شادی کا پیغام دے کر بھیجا