سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 278
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سلوک کا اجر دوسرا صدقے کا اجر (12) میدان بدر کے غازی 278 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدنی دور میں حضرت عبداللہ بن مسعود کو جملہ غزوات النبی میں حضور ﷺ کے ساتھ شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔جنگ بدر میں دشمن اسلام ابو جہل کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے میں آپ کا بھی حصہ ہے اور وہ اس طرح کہ جنگ ختم ہوئی تو رسول کریم نے فرمایا کوئی ہے جو ابو جہل کے بارہ میں صحیح خبر معلوم کر کے آئے۔عبداللہ بن مسعود تعمیل ارشاد کیلئے گئے کیا دیکھتے ہیں کہ میدان بدر میں دشمن رسول ابو جہل ( جسے حضرت عفراء کے بیٹوں نے تلواروں سے حملہ کر کے بری طرح زخمی کیا تھا ) جان کنی کے عالم میں پڑا ہے۔ابن مسعودؓ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم وہی بد بخت اور گمراہ کرنے والے بوڑھے ابو جہل ہو۔اس بد بخت کو آخری لمحات میں بھی اپنے فخر و غرور سے نجات نہ ملی تھی۔کہنے لگا کیا مجھ سے بھی بڑا کوئی سردار تم نے مارا ہے؟ گویا یہ طعنہ دیا کہ مجھ سے بھی بڑا کوئی سردار ہوگا جسے اس کی قوم نے مار دیا ہو۔(13) عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں تب میں نے اس کا کام تمام کر دیا۔غزوہ احد میں بھی حضرت عبد اللہ بن مسعود شامل تھے۔بلکہ احد کے بعد کفار قریش کا تعاقب کرنے والے ان زخمی صحابہ میں بھی شامل تھے جن کی تعریف کر کے قرآن شریف میں ان کیلئے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔(14) امارت کو فہ اور اطاعت خلافت حضرت نبی کریم علیہ کی وفات کے بعد عبداللہ بن مسعود نے شام کی فتوحات میں شریک ہونے کی سعادت پائی اور پھر حمص میں قیام پذیر ہو گئے۔حضرت عمرؓ نے آپ کو وہاں سے بلوا کر اہل کوفہ کی تعلیم و تربیت کیلئے بطور مربی مقررفرمایا۔اس وقت کوفہ کے امیر حضرت عمار بن یاسر تھے (15) حضرت عمر نے اہل کوفہ کو لکھا کہ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے عبداللہ بن مسعود کو تمہاری تعلیم و تربیت کیلئے اپنی طرف سے ایثار کر کے بھیجا ہے۔وگرنہ مرکز اسلام مدینہ میں