سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 279
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 279 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایسے عالم دین کی زیادہ ضرورت تھی پس تم ان سے خوب علم سیکھو۔(16) بعد میں حضرت عثمان نے آپ کو کوفہ میں امیر مقرر فرما دیا اور قضاء اور بیت المال کی ذمہ داریاں بھی آپ کے سپر در ہیں۔پھر جب بعض مصالح کی بناء پر حضرت عثمان نے آپ کو امارت سے ہٹا کر مدینے واپس بلایا تو کوفہ والے آپ کو واپس جانے نہ دیتے تھے اور کہتے کہ آپ یہیں رہیں۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کوئی آپ کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔اس پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ خلیفہ وقت حضرت عثمان کی اطاعت مجھ پر واجب ہے اور میں ہر گز گوارا نہیں کر سکتا کہ ان کی نافرمانی کر کے فتنہ کا کوئی دروازہ کھولوں۔(17) اور یوں آپ خلیفہ وقت کی کامل اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدینہ واپس آگئے۔فکر عاقبت حضرت ابن مسعود مدینہ آکر ایک دفعہ بیمار ہو گئے تو سخت گھبراہٹ طاری ہوئی صحابہؓ نے کہا کہ ہم نے تو کبھی کسی بیماری میں آپ کو ایسا پریشان نہیں دیکھا جیسا اس بیماری میں آپ فکرمند ہوئے ہیں۔فرمانے لگے اس بیماری نے مجھے اچانک آن دبوچا ہے اور میں ابھی اپنے آپ کو آخرت کے سفر کیلئے تیار نہیں پاتا اسلئے زیادہ پریشان ہوں۔(18) نبی کریم ﷺ نے آپ کو جنت کی بشارت دی تھی۔پھر بھی خدا خوفی اور انکسار کا یہ عالم تھا کہ کہا کرتے تھے ” اے کاش مرجانے کے بعد اٹھایا نہ جاؤں اور حساب کتاب سے بچ جاؤں۔“ (19) فراخی میں سادگی حضرت ابن مسعودؓ کے مالی حالات خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے اچھے ہو گئے تھے کہ آخری عمر میں آپ نے اپنا وظیفہ لینا بھی چھوڑ دیا تھا۔اس فارغ البالی کی حالت میں جبکہ نوے ہزار درہم آپ کا ترکہ تھا۔اپنے کفن کے بارے میں یہی وصیت کی کہ وہ سادہ چادروں کا ہو اور قیمتی نہ ہو۔نیز یہ خواہش کی کہ عثمان بن مظعون جوابتدائی