سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 275 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 275

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 275 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی توفیق ملی بعد میں آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی۔(5) جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو حضرت معاذ بن جبل کے ہاں ٹھہرے مکے میں آپ کی مواخات حضرت زبیر بن العوام سے ہوئی تھی اور مدینے میں معاذ بن جبل آپ کے دینی بھائی بنے مدینہ کے ابتدائی زمانے میں آپ کے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔چنانچہ حضور ﷺ نے جب مہاجرین کیلئے مسجد نبوی کے قریب رہائش کا کچھ انتظام کیا تو بنوزہرہ کے بعض لوگوں نے عبداللہ بن مسعود کو اپنے ساتھ رکھنے میں کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی۔آنحضرت عالیہ کو علم ہوا تو آپ نے اپنے اس غریب اور کمزور خادم کے لئے غیرت۔دکھاتے ہوئے فرمایا کہ خدا نے مجھے اس لئے مبعوث فرمایا ہے یا درکھو خدا تعالیٰ اس قوم کو بھی برکت عطا نہیں کرتا جس میں کمزور کو اسکا حق نہیں دیا جاتا۔اور پھر حضور نے ابن مسعود کو مسجد کے قریب جگہ عطافرمائی جبکہ بنوزہرہ کو مسجد کے پیچھے ایک کونے میں جگہ دی۔(6) حضرت عبد اللہ بن مسعود آغاز اسلام سے ہی رسول کریم علیہ کی ذاتی خدمت سے وابستہ ہو گئے تھے اور سفر وحضر میں حضور علیہ کی خاطر بظاہر چھوٹی مگر بنیادی اور اہم خدمات بجالایا کرتے تھے۔مثلاً رسول اللہ کی مسواک وضو اور غسل کیلئے پانی کا بروقت مہیا کرنا۔بیٹھنے کیلئے بچھونے اور آرام کیلئے بستر کا انتظام کرنا۔وقت پر بیدار کرنا غسل کیلئے پردے کا اہتمام کرنا اور حضور علیہ کے جوتے سنبھالنا وغیرہ۔اسی بناء پر ابن مسعود صاحب السواک، صاحب الوسادہ اور صاحب النعلین کے القاب سے بھی یاد کئے جاتے تھے۔(7) ان خدمات کے باعث ان کا اکثر حضور ﷺ کے گھر میں آنا جانا رہتا تھا۔اور رسول کریم ﷺ نے آپ کو اپنے گھر میں آنے کی خصوصی اجازت عطا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب آپ میری آواز سن رہے ہوں اور دروازے کے آگے پردہ نہ ہو تو آپ کو گھر کے اندر آنے کی اجازت ہے سوائے اس کے میں خود کسی وقت روک دوں۔(8) معلوم ہوتا ہے کہ یہ پردہ کے احکام کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہوگی جیسا کہ نبی کریم کے ایک اور خادم حضرت انس کا بیان ہے کہ میں حضور ﷺ کے گھر آیا جایا کرتا تھا۔(9) بہر حال