سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 276 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 276

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 276 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کا آنحضرت عیہ کے گھر آنا جانا اس کثرت سے تھا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی جب یمن سے مدینہ آئے تو ابتدائی زمانہ میں ہم عبداللہ بن مسعود کو خاندان نبوی کا ہی ایک فرد سمجھتے رہے۔کیونکہ ان کو اور ان کی والدہ کو ہم اکثر حضور علی کے گھر آتے جاتے دیکھتے تھے۔(10) الغرض عبد اللہ بن مسعودؓ نے آنحضرت میﷺ کا دامن مضبوطی سے پکڑا اور آپ سے سیکھا اور خوب سیکھا۔حسن تلاوت اور بے ریا سجدہ حضرت ابن مسعود رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ صحبت اور تربیت کے نتیجہ میں ایک عبادت گزار راستباز اور عالم با عمل انسان بن گئے۔حضرت عمران کی عبادت گزاری اور حسن تلاوت کا ایک بہت صلى الله ہی خوبصورت واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت حضرت ابو بکر اور میں نبی کریم علی کے ساتھ مدینہ میں گشت کیلئے نکلے۔دریں اثناء عبد اللہ بن مسعود کے پاس سے ہمارا گزرہواوہ فل نماز میں قرآن شریف کی تلاوت کر رہے تھے۔نبی کریم پہ کھڑے ہوکر ان کی تلاوت سنتے رہے۔پھر عبداللہ بن مسعود رکوع میں گئے اور سجدہ کیا اور یہ دعائیں کی کہ اے اللہ مجھے ایمان اور نہ ختم ہونے والا یقین عطا کر اور نبی کریم علیہ کی رفاقت اگلے جہاں میں نصیب فرما۔آنحضرت ملے نے فرمایا کہ اے عبداللہ اب جو مانگو گے وہ تمہیں عطا کیا جائے گا اور جو بھی دعا کرو گے قبول ہوگی گویا چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج الله پھر نبی کریم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے تو یہ فرمایا ” جس شخص کو یہ بات خوش کرے کہ وہ قرآن شریف کو اس طرح ترو تازہ پڑھے جس حال میں وہ نازل کیا گیا ہے۔تو اسے عبد اللہ بن مسعودؓ سے قرآن شریف سیکھنا چاہیے۔“