سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 274
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دعوت الی اللہ کا جذبہ 274 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود کو مکے میں مخالفت کے ابتدائی دور میں سرداران قریش کو قرآن شریف کی تلاوت بآواز بلند سنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔یہ شرف وسعادت اخلاص و قربانی کے جس جذبے سے ان کے حصے میں آئی اس کا واقعہ بہت دلچسپ ہے۔ہوا یوں کہ چند صحابہ رسول مجمع ہوئے اور دعوت الی اللہ کے حوالہ سے ذکر یہ چلا کہ ابھی تک ہم نے مخالفین کو قرآن شریف بلند آواز سے کبھی نہیں سنایا۔حضرت عبداللہ بن مسعود نے بڑے شوق سے یہ پیش کش کی کہ وہ بذات خود اس خدمت کیلئے تیار ہیں۔دیگر صحابہ کی یہ رائے تھی کہ اگر کوئی ایسا شخص یہ کام اپنے ذمہ لے جس کا قبیلہ دعوت الی اللہ کے اس متوقع مخالفانہ رد عمل کی صورت میں اس کا دفاع بھی کر سکے تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔کیونکہ عبد اللہ بن مسعود کے کمزور خاندان کے باعث انہیں زیادہ سخت رد عمل کا خدشہ تھا مگر عبد اللہ بن مسعود فرمانے لگے کہ آپ لوگ اس کی فکر نہ کریں۔اللہ تعالیٰ خود میری حفاظت فرمائے گا۔اور دوسرے دن چاشت کے وقت اس بہادر اور نڈر داعی الی اللہ نے خانہ کعبہ میں جا کر قریش کی مجلس کے قریب مقام ابراہیم پر سورۃ رحمان کی تلاوت شروع کر دی۔پہلے تو وہ لوگ غور سے سنتے رہے پھر جب پتہ چلا کہ کلام پاک ان کو سنایا جارہا ہے تو وہ اٹھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کو آن دبوچا اور خوب ان کی پٹائی کی۔مگر ابن مسعود ایک عجیب خدا داد استقامت کے ساتھ تلاوت کرتے چلے گئے یہاں تک کہ سورۃ رحمان کی تلاوت مکمل کر کے ہی واپس آئے صحابہ نے کہا کہ ہمیں اسی مار پٹائی کا اندیشہ تھا۔عبداللہ بن مسعود بولے خدا کی قسم جب میں قرآن شریف کی تلاوت کر رہا تھا تو دشمن مجھے سخت بے حقیقت معلوم ہوتے تھے اور گر کہو تو کل پھر سرداران قریش کے مجمع میں جا کر قرآن شریف کی تلاوت بآواز بلند سناؤں صحابہ نے کہا بس یہی کافی ہے۔(4) ہجرت اور خدمت رسول مکہ میں مخالفت زیادہ ہوئی تو پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود کو ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنے