سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 265 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 265

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 265 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ چندلوگوں نے ہی اسلام قبول کیا تھا۔میں دار ارقم کے دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ صہیب آگئے میں نے پوچھا کس مقصد سے آئے ہو؟ صہیب صاحب تجربہ، زیرک اور دانا انسان تھے کہنے لگے پہلے آپ بتاؤ کس ارادہ سے یہاں آئے ہو؟ عمار بن یاسر کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں تو محمد ﷺ کا پیغام اور کلام سننے کیلئے آیا ہوں تب صہیب نے کہا کہ میں بھی اسی ارادے سے آیا ہوں۔ہم دونوں آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور ﷺ نے اسلام کا پیغام سمجھایا اور ہم دونوں نے اسی موقع پر اسلام قبول کر کے حضور ﷺ کی بیعت کی توفیق پائی۔اس وقت تک جو لوگ اسلام قبول کر چکے تھے ان کی تعداد میں بیان کی جاتی ہے۔لیکن اسلام کا اعلان یا اظہار کرنے والے حضرت ابوبکر کے علاوہ معدودے چند ہی تھے ایک تو خاندان یا سر نجس میں ان کی بیوی سمیہ اور بیٹے عمارہ تھے پھر حضرت خباب ، حضرت بلال اور حضرت صہیب۔یہ وہ چند لوگ تھے جن کا کمزور مسلمان گھرانوں سے تعلق تھا۔آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ہی بظاہر ان کی جائے پناہ تھے جو ان کے لئے غیرت رکھتے اور ڈھال بنتے تھے۔ورنہ مختلف قبائل سے آکر حلیف بننے والے کمزوروں اور غلاموں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا کیونکہ ان کے اپنے کوئی خونی رشتہ دار تو تھے نہیں جو ان کی سپر بنتے۔ان کے مالک ان کو کپڑے اور لوہے کی زرہیں پہنا کر تپتی ہوئی دھوپ میں لٹا دیتے اور یوں تکلیف اور اذیت سے وہ دن گزارتے۔(3) روایت ہے کہ انہی مظلوموں کے بارہ میں یہ آیت اتری۔وَالَّذِينَ هَا جَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعِدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَا هَدُوا وَ صَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعدِ هَا لَغَفُورٌ رَّحِيم - (النحل: 111 ) یعنی وہ لوگ جنہوں آزمائش میں پڑنے کے بعد ہجرت پھر جہاد کیا اور صبر سے کام کیا۔تیرا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا اور مہربان ہے۔ہجرت اور مال کی قربانی حضرت صہیب نے بھی انہی حالات میں مکے میں ابتلاؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے وقت گزارا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کو ہجرت کی اجازت ہوئی تو انہوں نے بھی ہجرت کا قصد کیا۔حضور اے اور حضرت ابوبکر کے بعد آخری ہجرت کرنے والوں میں حضرت صہیب شامل تھے۔وہ مالدار تاجر